تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 6
Tafseerوَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ﴿6﴾
- وَّاَنَّهٗاور یہ کہ
- كَانَ رِجَالٌتھے کچھ آدمی
- مِّنَ الْاِنْسِانسانوں میں سے
- يَعُوْذُوْنَپناہ لیتے (تھے)
- بِرِجَالٍلوگوں سے
- مِّنَ الْجِنِّجنات سے
- فَزَادُوْهُمْتو انہوں نے (جنات) کو بڑھا دیا
- رَهَقًاتکبر میں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور یہ کہ”انسانوں میں سے کچھ لوگ جِنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، اِس طرح اُنہوں نے جِنّوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا۔“ 7
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجِنّ 7
ابن عباس ؓ کہتے کہ جاہلیت کے زمانے میں جب عرب کسی سنسان وادی میں رات گزارتے تھے تو پکار کر کہتے " ہم اس وادی کے مالک جن کی پناہ مانگتے ہیں "۔ عہد جاہلیت کی دوسری روایات میں بھی بکثرت اس بات کا ذکر ملتا ہے۔ مثلا اگر کسی جگہ پانی اور چارہ ختم ہوجاتا تو خانہ بدوش بدو اپنا ایک آدمی کوئی دوسری جگہ تلاش کرنے کے لیے بھیجتے جہاں پانی اور چارہ مل سکتا ہو، پھر اس کی نشان دہی پر جب یہ لوگ نئی جگہ پہنچتے تو وہاں اترنے سے پہلے پکار پکار کر کہتے " کہ ہم اس وادی کے رب کی پناہ مانگتے ہیں تاکہ یہاں ہم ہر آفت سے محفوظ رہیں "۔ ان لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ ہر غیر آباد جگہ کسی نہ کسی جن کے قبضے میں ہے اور اس سے پناہ مانگے بغیر وہاں کوئی ٹھہر جائے تو وہ جن یا تو خود ستاتا ہے یا دوسرے جنوں کو ستانے دیتا ہے۔ اسی بات کی طرف یہ ایمان لانے والے جن اشارہ کر رہے ہیں۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ جب زمین کے خلیفہ انسان نے الٹا ہم سے ڈرنا شروع کردیا اور خدا کو چھوڑ کر وہ ہم سے پناہ مانگنے لگا تو ہماری قوم کے لوگوں کا دماغ اور زیادہ خراب ہوگیا، ان کا کبر و غرور اور کفر و ظلم اور زیادہ بڑھ گیا، اور وہ گمراہی میں زیادہ جری ہوگئے۔