Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 7

Tafseer
  1. وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ﴿7﴾

    1. وَّاَنَّهُمْاور یہ کہ وہ
    2. ظَنُّوْاانہوں نے گمان کیا
    3. كَمَاجیسے
    4. ظَنَنْتُمْتم نے گمان کیا تھا
    5. اَنْکہ
    6. لَّنْ يَّبْعَثَہرگز نہ (رسول بناکر) بھیجے گا
    7. اللّٰهُاللہ
    8. اَحَدًاکسی کو
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور یہ کہ”انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمھارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسُول بنا کر نہ بھیجے گا۔“ 8
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجِنّ 8 اصل الفاظ ہیں ان لن یبعث اللہ احدا۔ اس فقرے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ " اللہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھائے گا "۔ چونکہ الفاظ جامع ہیں اس لیے ان کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ انسانوں کی طرح جنوں میں بھی رسالت اور آخرت دونوں کا انکار پایا جاتا تھا۔ لیکن آگے کے مضمون کی مناسبت سے پہلا مفہوم ہی زیادہ قابل ترجیح ہے، کیونکہ اس میں یہ ایمان لانے والے جن اپنی قوم کے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ تمہارا خیال غلط نکلا کہ اللہ کسی رسول کو مبعوث کرنے والا نہیں، آسمانوں کے دروازے ہم پر اسی وجہ سے بند کیے گئے ہیں کہ اللہ نے ایک رسول بھیج دیا ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 72 : 7