Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 11

Tafseer
  1. وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا﴿11﴾

    1. وَذَرْنِيْاور مجھے چھوڑدو
    2. وَالْمُكَذِّبِيْنَاور جھٹلانے والوں
    3. اُولِي النَّعْمَةِخوشحال لوگوں
    4. وَمَهِّلْهُمْاور ان کو مہلت دیدیں
    5. قَلِيْلًاتھوڑی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اِن جُھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو 12 اور اِنہیں ذرا کچھ دیر اِسی حالت میں رہنے دو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُزَّمِّل 12 ان الفاظ میں صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ مکہ میں دراصل جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور طرح طرح کے فریب دے کر اور تعصبات ابھار کر عوام کو آپ کی مخالفت پر آمادہ کر رہے تھے وہ قوم کے کھاتے پیتے، پیٹ بھرے، خوشحال لوگ تھے، کیونکہ انہی کے مفاد پر اسلام کی اس دعوت اصلاح کی زد پڑ رہی تھی۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معاملہ صرف رسول اللہ ﷺ ہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہمیشہ یہی گروہ اصلاح کی راہ روکنے کے لیے سنگ گراں بن کر کھڑا ہوتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 60۔ 66۔ 75۔ 88۔ المومنون، 33۔ سبا، 34۔ 35۔ الزخرف، 23۔
Tafheem-ul-Quran - 73 : 11