Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 16

  1. وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿16﴾

    1. وَمَنْاور جو کوئی
    2. يُّوَلِّهِمْان سے پھیرے
    3. يَوْمَئِذٍاس دن
    4. دُبُرَهٗٓاپنی پیٹھ
    5. اِلَّاسوائے
    6. مُتَحَرِّفًاگھات لگاتا ہوا
    7. لِّقِتَالٍجنگ کے لیے
    8. اَوْیا
    9. مُتَحَيِّزًاجا ملنے کو
    10. اِلٰيطرف
    11. فِئَةٍاپنی جماعت
    12. فَقَدْ بَآءَپس وہ لوٹا
    13. بِغَضَبٍغصہ کے ساتھ
    14. مِّنَسے
    15. اللّٰهِاللہ
    16. وَمَاْوٰىهُاور اسکا ٹھکانہ
    17. جَهَنَّمُجہنم
    18. وَبِئْسَاور بری
    19. الْمَصِيْرُپلٹنے کی جگہ (ٹھکانہ)
Translation · Tafheem-ul-Quran
جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیرے۔۔۔۔ اِلّا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے۔۔۔۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھِر جائے گا، اُس کا ٹھکانا جہنّم ہو گا، اور وہ بہت بُری جائے بازگشت ہے۔13
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْفَال 13 دشمن کے شدید دباؤ پر مرتب پسیائی (Orderly retreat) ناجائز نہیں ہے جبکہ اس کا مقصود اپنے عقبی مرکز کی طرف پلٹنا یا اپنی ہی فوج کے کسی دوسرے حصہ سے جا ملنا ہو۔ البتہ جو چیز حرام کی گئی ہے وہ بھگدڑ (Rout) ہے جو کسی جنگی مقصد کے لیے نہیں بلکہ محض بزدلی و شکست خوردگی کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس لیے ہوا کرتی ہے کہ بھگوڑے آدمی کو اپنے مقصد کی بہ نسبت جان زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اس فرار کو بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ چناچہ نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ تین گناہ ایسے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی۔ ایک شرک، دوسرے والدین کی حق تلفی، تیسرے میدان قتال فی سبیل اللہ سے فرار۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ نے سات بڑے گناہوں کا ذکر کیا ہے جو انسان کے لیے تباہ کن اور اس کے انجام اخروی کے لیے غارتگر ہیں۔ ان میں سے ایک یہ گناہ بھی ہے کہ آدمی کفر و اسلام کی جنگ میں کفار کے آگے پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ اس فعل کو اتنا بڑا گناہ قرار دینے کی وجہ سے صرف یہی نہیں ہے کہ یہ ایک بزدلانہ فعل ہے، بلکہ اس کی وہ یہ ہے کہ ایک شخص کا بھگوڑا پن بسا اوقات ایک پوری پلٹن کو، اور ایک پلٹن کا بھگوڑا پن ایک پوری فوج کو بدحواس کرکے بھگا دیتا ہے۔ اور پھر جب ایک دفعہ کسی فوج میں بھگدڑ پڑجائے تو کہا نہیں جاسکتا کہ تباہی کس حد پر جا کر ٹھیرے گی۔ اس طرح کی بھگدڑ صرف فوج ہی کے لیے تباہ کن نہیں ہے بلکہ اس ملک کے لیے بھی تباہ کن ہے جس کی فوج ایسی شکست کھائے۔