Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 17

  1. فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿17﴾

    1. فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْسو تم نے نہیں قتل کیا انہیں
    2. وَلٰكِنَّبلکہ
    3. اللّٰهَاللہ
    4. قَتَلَهُمْانہیں قتل کیا
    5. وَاور
    6. مَا رَمَيْتَآپ نے نہ پھینکی تھی
    7. اِذْجب
    8. رَمَيْتَآپ نے پھینکی
    9. وَلٰكِنَّاور بلکہ
    10. اللّٰهَاللہ
    11. رَمٰىپھینکی
    12. وَلِيُبْلِيَاور تاکہ وہ آزمائے
    13. الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
    14. مِنْهُاپنی طرف سے
    15. بَلَآءًآزمائش
    16. حَسَنًااچھا
    17. اِنَّبیشک
    18. اللّٰهَاللہ
    19. سَمِيْعٌسننے والا
    20. عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تُو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا14 ( اور مومنوں کے ہاتھ جو اس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے ، یقیناً اللہ سُننے اور جاننے والا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْفَال 14 معرکہ بدر میں جب مسلمانوں اور کفار کے لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے اور عام زد و خورد کا موقع آگیا تو حضور ﷺ نے مٹھی بھر ریت ہاتھ میں لے کر شاھت الوُجُوہ کہتے ہوئے کفار کی طرف پھینکی اور اس کے ساتھ ہی آپ کے اشارے سے مسلمان یکبارگی کفار پر حملہ آور ہوئے۔ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔