Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 43

  1. اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿43﴾

    1. اِذْجب
    2. يُرِيْكَهُمُتمہیں دکھایا انہیں
    3. اللّٰهُاللہ
    4. فِيْمیں
    5. مَنَامِكَتمہاری خواب
    6. قَلِيْلًاتھوڑا
    7. وَلَوْاور اگر
    8. اَرٰىكَهُمْتمہیں دکھاتا انہیں
    9. كَثِيْرًابہت زیادہ
    10. لَّفَشِلْتُمْتو تم بزدلی کرتے
    11. وَلَتَنَازَعْتُمْتم جھگڑتے
    12. فِي الْاَمْرِمعاملہ میں
    13. وَلٰكِنَّاور لیکن
    14. اللّٰهَاللہ
    15. سَلَّمَبچا لیا
    16. اِنَّهٗبیشک وہ
    17. عَلِيْمٌجاننے والا
    18. بِذَاتِ الصُّدُوْرِدلوں کی بات
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور یاد کرو وہ وقت جبکہ اے نبی ؐ ، خدا اُن کو تمہارے خواب میں تھوڑا دکھا رہا تھا۔36 اگر کہیں وہ تمہیں اُن کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو ضرور تم لوگ ہمت ہار جاتے اور لڑائی کے معاملہ میں جھگڑا شروع کر دیتے، لیکن اللہ ہی نے اِس سے تمہیں بچایا، یقیناً وہ سینوں کا حال تک جانتا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْفَال 36 یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی ﷺ مسلمانوں کو لے کر مدینہ سے نکل رہے تھے یا راستہ میں کسی منزل پر تھے اور یہ متحقق نہ ہوا تھا کہ کفار کا لشکر فی الواقع کتنا ہے۔ اس وقت حضور ﷺ نے خواب میں اس لشکر کو دیکھا اور جو منظر آپ کے سامنے پیش کیا گیا اس سے آپ نے اندازہ لگایا کہ دشمنوں کی تعداد کچھ بہت زیادہ نہیں ہے۔ یہی خواب آپ نے مسلمانوں کو سنا دیا اور اس سے ہمت پا کر مسلمان آگے بڑھتے چلے گئے۔