تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 83. Al-Mutaffifin · Ayah 14
Tafseerكَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿14﴾
- كَلَّاہرگز نہیں
- بَلْ ۫بلکہ
- رَانَزنگ پکڑ گیا ہے
- عَلٰي قُلُوْبِهِمْان کے دلوں پر
- مَّاجو
- كَانُوْا يَكْسِبُوْنَوہ کماتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہر گز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے بُرے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ 7
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُطَفِّفِيْن 7
یعنی جزا و سزا کو افسانہ قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کا یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لیے جو بات سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے۔ اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو پورے دل پر وہ چھا جاتا ہے (مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، حاکم، ابن ابی حاتم، ابن حبان وغیرہ)۔