Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 96. Al-Alaq · Ayah 18

Tafseer
  1. سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ﴿18﴾

    1. سَنَدْعُہم بلاتے ہیں
    2. الزَّبَانِيَةَپیادے
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بُلا لیں گے۔ 15
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة العلق 15 اصل میں زبانیہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو قتادہ کی تشریح کے مطابق کلام عرب میں پولیس کے لیے بولا جاتا ہے۔ اور زبن کے اصل معنی دھکا دینے کے ہیں۔ بادشاہوں کے ہاں چوبدار بھی اسی غرض کے لیے ہوتے تھے کہ جس پر بادشاہ ناراض ہو اسے وہ دھکے دے کر نکال دیں۔ پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ اپنے حمایتیوں کو بلا لے، ہم اپنی پولیس، یعنی ملائکہ عذاب کو بلا لیں گے کہ وہ اس کی اور اس کے حمایتیوں کی خبر لیں۔