56. Al-Waaqiaالواقعة
The Inevitable · Meccan · 96 ayahs · 3 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ﴿1﴾
یاد رکھو، جب کہ واقع ہو پڑے گی واقع ہونے والی۔لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ﴿2﴾
اس کے واقعہ ہونے میں کسی جھوٹ کا شائبہ نہیں۔خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ﴿3﴾
وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ﴿4﴾
جب کہ زمین بالکل جھنجھوڑ دی جائے گیوَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ﴿5﴾
اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہفَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ﴿6﴾
ہوکر منتشر غبار بن جائیں گے۔وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ﴿7﴾
اور تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جائو گے۔فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ﴿8﴾
ایک گروہ داہنے والوں کا ہوگا تو کیا کہنا میں داہنے والوں کے !وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ﴿9﴾
دوسرا گروہ بائیں والوں کا ہوگا، تو کیا حال ہوگا بائیں والوں کا !وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ﴿10﴾
رہے سابقون، تو وہ تو سبقت کرنے والے ہی ہیں !اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ﴿11﴾
وہی لوگ مقرب ہوں گے۔فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ﴿12﴾
نعمت کے باغوں میں ،ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ﴿13﴾
ان میں بڑی تعداد اگلوں کی ہو گیوَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ﴿14﴾
اور تھوڑے پچھلوں میں سے ہوں گے۔عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ﴿15﴾
جڑا، تختوں پر ،مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ﴿16﴾
ٹیک لگائے، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ﴿17﴾
ان کی خدمت میں غلمان، جو ہمیشہ غلمان ہیں رہیں گے۔بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ﴿18﴾
پیالے جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے گردش کر رہے ہوں گےلَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ﴿19﴾
جس سے نہ تو ان کو درد سر لا حق ہوگا اور نہ وہ فتور عقل میں مبتلا ہوں گےوَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ﴿20﴾
اور میوے ان کی پسند کےوَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ﴿21﴾
اور پرندوں کے گوشت ان کی رغبت کےوَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ﴿22﴾
اور ان کے لیے غزال چشم حوریں ہوں گی ،كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ﴿23﴾
محفوظ کیے ہوئے موتیوں کے مانند ،جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿24﴾
صلہ ان کے اعمال کا جو وہ کرتے رہے۔لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ﴿25﴾
اس میں وہ کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴿26﴾
صرف مبارک سلامت کے چرچے ہوں گے۔وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ﴿27﴾
اور رہے داہنے والے تو کیا کہنے ہیں داہنے والوں کے !فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ﴿28﴾
بےخار بیریوں ،وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ﴿29﴾
تہہ بہ تہہ کیلوںوَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ﴿30﴾
اور پھیلے ہوئے سایوں میںوَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ﴿31﴾
اور پانی بہایا ہوا۔وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ﴿32﴾
میوے فراواں ،لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ﴿33﴾
نہ کبھی منقطع ہونے والے نہ کبھی ممنوعوَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ﴿34﴾
اور اونچے بستر ہوں گےاِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ﴿35﴾
اور ان کی بیویاں ہوں گی جن کو ہم نے ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہوگا ،فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ﴿36﴾
پس ہم ان کو رکھیں گے کنواریاں ،عُرُبًا اَتْرَابًاۙ﴿37﴾
دلربا اور ہم سنیںلِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ع﴿38﴾
یہ نعمتیں داہنے والوں کے لیے ہوں گی۔ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ﴿39﴾
ان میں اگلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ ہو گاوَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ﴿40﴾
اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ﴿41﴾
اور بائیں والے تو کیا ہی برا حال ہوگا بائیں والوں کا !فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ﴿42﴾
وہ لو کی لپٹ، کھولتے پانیوَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ﴿43﴾
اور دھوئیں کے سایہ میں ہوں گےلَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ﴿44﴾
جس میں نہ کوئی ٹھنڈک ہوگی اور نہ کسی طرح کی کوئی افادیت۔اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ﴿45﴾
یہ لوگ اس سے پہلے خوش حالوں میں تھےوَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ﴿46﴾
اور سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے رہے۔وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ﴿47﴾
اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے !اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ﴿48﴾
اور کیا ہمارے اگلے آباء و اجداد بھی !قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ﴿49﴾
کہہ دو ! اگلے اور پچھلےلَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ﴿50﴾
ایک معین دن کی مقررہ مدت تک سب جمع کیے جائیں گے ،ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ﴿51﴾
پھر تم لوگ، اے گمراہو اور جھٹلانے والو ،لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ﴿52﴾
زقوم کے درخت میں سے کھائو گےفَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ﴿53﴾
اور اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے ،فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ﴿54﴾
پھر اس پر کھولتا پانی پیو گےفَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ﴿55﴾
تون سے ہوئے اونٹوں کی طرحهٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ﴿56﴾
یہ جزا کے دن ان کی پہلی ضیافت ہوگی !نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ﴿57﴾
(ہم نے تم کو پیدا کیا ہے تو تم قیامت کی تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ﴿58﴾
کیا تم نے غور کیا ہے اس چیز پر جو تم ٹپکا دیتے ہو !ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ﴿59﴾
اس کی صورت گری تم کرتے ہو یا صورت گری کرنے والے ہم ہیں ؟نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ﴿60﴾
ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کی ہے اور ہم عاجز رہنے والے نہیں ہیں بلکہ قادر ہیںعَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿61﴾
اس بات پر کہ ہم تمہاری جگہ تمہاری مانند بنا دیں اور تم کو اٹھائیں اس عالم میں جس کو تم نہیں جانتےوَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ﴿62﴾
اور پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہی ہو تو اس سے کیوں یاددہانی نہیں حاصل کرتےاَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ﴿63﴾
کیا تم نے غور کیا ہے اس چیز پر جو تم بولتے ہو ؟ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ﴿64﴾
اس کو تم پروان چڑھاتے ہو یا پروان چڑھانے والے ہم ہیں ؟لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ﴿65﴾
ہم چاہیں تو اس کو ریزہ ریزہ کر چھوڑیں تو تم باتیں ہی بناتے رہ جائو۔اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ﴿66﴾
بیشک ہم تو تاوان میں پڑے !بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ﴿67﴾
بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہےاَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ﴿68﴾
ذرا غور تو کرو اس پانی پر جو تم پیتے ہو !ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ﴿69﴾
کیا تم نے اس کو اتارا ہے بادلوں سے یا اس کے اتارنے والے ہم ہیں ؟لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ﴿70﴾
اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل ہی تلخ بنا دیں تو تم لوگ شکر کیوں نہیں کرتے !)اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ﴿71﴾
ذرا غور تو کرو اس آگ پر جس کو جلاتے ہو !ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ﴿72﴾
کیا تم نے پیدا کیا ہے اس کے درخت کو یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں !نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ﴿73﴾
ہم نے اس کو یاددہانی اور صحرا کے مسافروں کے لیے ایک نہایت نفع بخش چیز بنایا ہے۔فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ع﴿74﴾
تو تم اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو !فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ﴿75﴾
(پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کے ٹھکانوں کی !وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ﴿76﴾
اور بیشک یہ ایک بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو !اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ﴿77﴾
بیشک یہ ایک با عزت قرآن ہے۔فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ﴿78﴾
ایک محفوظ کتاب میں ،لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ﴿79﴾
اس کو صرف پاکیزہ ہی ہاتھ لگاتے ہیںتَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿80﴾
یہ عالم کے خداوند کا نازل کردہ ہےاَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ﴿81﴾
تو کیا تم لوگ اس کلام سے اغماض برتتے ہو !وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ﴿82﴾
اور جو تمہارے لیے رزق ہے اس کی تکذیب کررہے ہو !فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ﴿83﴾
اگر تمہارا یہ گمان ہے کہ تم کسی کے محکوم نہیںوَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ﴿84﴾
تو کیوں نہیں اس وقت جب کہ جان حلق میں پہنچتی ہے اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہووَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ﴿85﴾
اور ہم اس جان کنی میں مبتلا سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ پاتے ،فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ﴿86﴾
پس کیوں نہیں، اگر تم غیر محکوم ہو ،تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿87﴾
اس جان کو لوٹا لیتے اگر تم سچے ہو ؟فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ﴿88﴾
پس اگر وہ ہوا مقربین میں سےفَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ﴿89﴾
تو اس کے لیے راحت اور سرور اور نعمت کا باغ ہےوَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ﴿90﴾
اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہوفَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ﴿91﴾
ا تو تیرے لیے سلامتی ہے، اے صاحب یمین !وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ﴿92﴾
اور اگر جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہوافَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ﴿93﴾
تو اس کے لیے گرم پانی کی ضیافتوَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ﴿94﴾
اور جہنم کا داخلہ ہےاِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ﴿95﴾
۔ بیشک یہ ساری باتیں سچی اور یقینی ہیںفَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ع﴿96﴾
تو اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو