65. At-Talaaqالطلاق
Divorce · Medinan · 12 ayahs · 2 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا﴿1﴾
اے نبی ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے حساب سے طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اللہ سے، جو تمہارا پروردگار ہے، ڈرتے رہو اور ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود ہی نکلیں الا آنکہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کی مرتکب ہوں اور یہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود ہیں اور جو اللہ کے حدود سے تجاوز کریں گے تو انہوں نے اپنی ہی جان پر ظلم ڈھایا تو نہیں جانتے شاید اللہ اس کے بعد کوئی اور صورت پیدا کردےفَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ﴿2﴾
پس جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو ان کو یا تو دستور کے مطابق نکاح میں رکھو یا دستور کے مطابق جدا کر دو اور اپنے میں سے دو ثقہ آدمیوں کو گواہ بنا لو۔ اور گواہی کو قائم رکھو اللہ کے لیے یہ نصیحت ان کو کی جاتی ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اللہ سے ڈریں گے تو اللہ ان کے لیے راہ نکالے گاوَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا﴿3﴾
اور ان کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے انکو گمان بھی نہ ہوگا اور جو اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ اللہ اپنے ارادے پورے کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ ٹھہرا رکھا ہےوَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا﴿4﴾
اور تمہاری عورتوں میں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں اگر ان کے باب میں شک ہو تو ان کی عدت میں مہینے ہے اور اسی طرح ان کی بھی جن کو حیض نہ آیا ہو اور حمل والیوں کی مدت وضع حمل ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا تو اللہ اس کے لیے اس کے معاملے میں آسانی پیدا کرے گا۔ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا﴿5﴾
یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا ہے تو جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس سے اس کے گناہ دور کرے دے گا اور اس کے اجر کو بڑھائے گا۔اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ﴿6﴾
اور ان کو رکھو جس طرح اپنی حیثیت کے مطابق تم رہتے ہو اور ان کو ضیق میں ڈالنے کے لیے ضرر نہ پہنچائو اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر خرچ کرو تاآنکہ وہ حمل سے فارغ ہوجائیں۔ پس اگر وہ تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کو ان کا معاوضہ دو اور دستور کے مطابق ایک قرار داد کرلو۔ اگر تم کوئی زحمت محسوس کرو تو اس کے لیے کوئی اور دودھ پلائے گی۔لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠﴿7﴾
چاہیے کہ کشادگی والا اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور جس کو کم ہی رزق دیا گیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اس کو دیا ہے۔ جتنا جس کو اللہ نے دیا ہے اس سے زیادہ کسی پر وہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اللہ تنگی کے بعد کشادگی بھی پیدا کرے گاوَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًاع﴿8﴾
اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہوئی ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو نہایت ہولناک عذاب دیافَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا﴿9﴾
تو انہوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کا انجام نامرادی ہوا۔اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ﴿10﴾
اللہ نے ان کے لیے ایک سخت عذاب بھی تیار کر رکھا ہے تو اللہ سے ڈرو، اے عقل والو ! اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک یاددہانی اتار دی ہے۔رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا﴿11﴾
ایک رسول جو تمہیں اللہ کی واضح آیتیں پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالے اور جو ایمان لائیں گے اور عمل صالح کریں گے۔ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ اللہ نے ان کو نہایت اچھی روزی دی۔اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ع﴿12﴾
اللہ ہی ہے جس نے بنائے سات آسمان اور انہی کے مانند زمین بھی۔ ان میں اس کے احکام نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔