69. Al-Haaqqaالحاقة
The Reality · Meccan · 52 ayahs · 2 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَآقَّةُۙ﴿1﴾
وہ حقیقت ہو کر رہے گی۔مَا الْحَآقَّةُۚ﴿2﴾
کیا ہے وہ حقیقت جو ہو کر رہے گی ؟وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ﴿3﴾
اور تمہیں کیا پتہ کہ وہ حقیقت کیا ہے جو ہو کر رہے گی ؟كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ﴿4﴾
ثمود اور عاد کی قوموں نے اسی جھنجوڑ ڈالنے والی حقیقت کو جھٹلایا تھا۔فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ﴿5﴾
نتیجہ یہ کہ جو ثمود کے لوگ تھے، وہ (چنگھاڑ کی) ایسی آفت سے ہلاک کیے گئے جو حد سے زیادہ (خوفناک) تھی۔وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ﴿6﴾
اور جو عاد کے لوگ تھے، انہیں ایک ایسی بےقابو طوفانی ہوا سے ہلاک کیا گیا۔سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ﴿7﴾
جسے اللہ نے ان پر سات رات اور آٹھ دن لگاتار مسلط رکھا۔ چنانچہ تم (اگر وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ لوگ وہاں کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح پچھاڑے ہوئے پڑے تھے۔فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ﴿8﴾
اب کیا ان میں سے کوئی بچا ہوا نظر آتا ہے ؟وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ﴿9﴾
اور فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں نے اور (لوط ؑ کی) الٹی ہوئی بستیوں نے بھی اسی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً﴿10﴾
کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تھی، اس لیے اللہ نے انہیں سخت پکڑ میں لے لیا۔اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ﴿11﴾
جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کردیا۔لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ﴿12﴾
تاکہ ہم اس واقعے کو تمہارے لیے سبق آموز بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اسے (سن کر) یاد رکھیں۔فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ﴿13﴾
پھر جب ایک ہی دفعہ صور میں پھونک مار دی جائے گی۔وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ﴿14﴾
اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی ضرب میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ﴿15﴾
تو اس دن وہ واقعہ پیش آجائے گا جسے پیش آنا ہے۔وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ﴿16﴾
اور آسمان پھٹ پھڑے گا اور وہ اس دن بالکل بودا پڑجائے گا۔وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ﴿17﴾
اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے، اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ﴿18﴾
اس دن تمہاری پیشی اسی طرح ہوگی کہ تمہاری کوئی چھپی ہوئی چیز چھپی نہیں رہے گی۔فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ﴿19﴾
پھر جس کسی کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ کہے گا کہ : لوگو ! لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ﴿20﴾
میں پہلے ہی سمجھتا تھا کہ مجھے اپنے حساب کا سامنا کرنا ہوگا۔فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ﴿21﴾
چنانچہ وہ من پسند عیش میں ہوگا۔فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ﴿22﴾
اس اونچی جنت میںقُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ﴿23﴾
جس کے پھل جھکے پڑ رہے ہوں گے۔كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ﴿24﴾
(کہا جائے گا کہ) اپنے ان اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ پیو، جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے تھے۔وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ﴿25﴾
رہا وہ شخص جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا کہ : اے کاش ! مجھے میرا اعمال دیا ہی نہ جاتا۔وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ﴿26﴾
اور مجھے خبر بھی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے ؟یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ﴿27﴾
اے کاش ! کہ میری موت ہی پر میرا کام تمام ہوجاتا۔مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ﴿28﴾
میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ﴿29﴾
میرا سارا زور مجھ سے جاتا رہا۔خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ﴿30﴾
(ایسے شخص کے بارے میں حکم ہوگا) پکڑو اسے، اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو۔ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ﴿31﴾
پھر اسے دوزخ میں جھونک دو۔ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ﴿32﴾
پھر اسے ایسی زنجیر میں پرو دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ کے برابر ہو۔اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ﴿33﴾
یہ نہ تو خدائے بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا۔وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ﴿34﴾
اور نہ غریب کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ﴿35﴾
لہذا آج یہاں نہ اس کا کوئی یارو مددگار ہے۔وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ﴿36﴾
اور نہ اس کو کوئی کھانے کی چیز میسر ہے۔ سوائے غسلین کے۔لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ع﴿37﴾
جسے گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا۔فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ﴿38﴾
اب میں قسم کھاتا ہوں اس کی بھی جسے تم دیکھتے ہو۔وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ﴿39﴾
اور اس کی بھی جسے تم نہیں دیکھتے۔اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ﴿40﴾
کہ یہ (قرآن) ایک معزز پیغام لانے والے کا کلام ہے۔وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ﴿41﴾
اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے۔ (مگر) تم ایمان تھوڑا ہی لاتے ہو۔وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ﴿42﴾
اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے۔ (مگر) تم سبق تھوڑا ہی لیتے ہو۔تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿43﴾
یہ کلام تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے اتارا جارہا ہے۔وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ﴿44﴾
اور اگر (بالفرض) یہ پیغمبر کچھ (جھوٹی) باتیں بنا کر ہماری طرف منسوب کردیتے۔لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ﴿45﴾
تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ تے۔ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ٘ۖ﴿46﴾
پھر ہم ان کی شہ رگ کاٹ دیتے۔فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ﴿47﴾
پھر تم میں سے کوئی نہ ہوتا جو ان کے بچاؤ کے لیے آڑے آسکتا۔وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ﴿48﴾
اور یقین جانو کہ یہ پرہیزگاروں کے لیے ایک نصیحت ہے۔وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ﴿49﴾
اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ تم میں کچھ لوگ جھٹلانے والے بھی ہیں۔وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ﴿50﴾
اور یہ (قرآن) ایسے کافروں کے لیے حسرت کا سبب ہے۔وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ﴿51﴾
اور یہی وہ یقینی بات ہے جو سراسر حق ہے۔فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ع﴿52﴾
لہذا تم اپنے پروردگار کے عظمت والے نام کی تسبیح کرتے رہو۔