70. Al-Ma'aarijالمعارج
The Ascending Stairways · Meccan · 44 ayahs · 2 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ﴿1﴾
ایک مانگنے والے نے وہ عذاب مانگا ہےلِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ﴿2﴾
جو کافروں پر آنے والا ہے کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے۔مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ﴿3﴾
وہ اللہ کی طرف سے آئے گا جو چڑھنے کے تمام راستوں کا مالک ہے۔تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ﴿4﴾
فرشتے اور روح القدس اس کی طرف ایک ایسے دن میں چڑھ کر جاتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا﴿5﴾
لہذا تم خوبصورتی کے ساتھ صبر سے کام لو۔اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ﴿6﴾
یہ لوگ اسے دور سمجھ رہے ہیں۔وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ﴿7﴾
اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ﴿8﴾
(وہ عذاب) اس دن ہوگا جب آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوجائے گا۔وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ﴿9﴾
اور پہاڑ رنگین روئی کی طرح ہوجائیں گے۔وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ﴿10﴾
اور کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو پوچھے گا بھی نہیں۔یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ﴿11﴾
حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیے جائیں گے۔ مجرم یہ چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹے فدیہ میں دیدے۔وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ﴿12﴾
اور اپنی بیوی اور اپنا بھائیوَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ﴿13﴾
اور اپنا وہ خاندان جو اسے پناہ دیتا تھا۔وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ﴿14﴾
اور زمین کے سارے کے سارے باشندے۔ پھر (ان سب کو فدیہ میں دے کر) اپنے آپ کو بچا لے۔كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ﴿15﴾
(لیکن) ایسا ہرگز نہیں ہوسکے گا۔ وہ تو ایک بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ﴿16﴾
جو کھال اتار لے گی۔تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ﴿17﴾
ہر اس شخص کو بلائے گی جس نے پیٹھ پھیر کر منہ موڑا ہوگا۔وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى﴿18﴾
اور (مال) اکٹھا کیا ہوگا پھر اسے سینت سینت کر رکھا ہوگا۔اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ﴿19﴾
حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے۔اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ﴿20﴾
جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے۔وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ﴿21﴾
اور جب اس کے پاس خوشحالی آتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ﴿22﴾
مگر وہ نمازی ایسے نہیں ہیں۔الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ﴿23﴾
جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ﴿24﴾
اور جن کے مال و دولت میں ایک متعین حق ہے۔لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ﴿25﴾
سوالی اور بےسوالی کاوَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ﴿26﴾
اور جو روز جزاء کو برحق مانتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ﴿27﴾
اور جو اپنے پروردگار کے عذب سے سہمے رہتے ہیں۔اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ﴿28﴾
یقینا ان کے پروردگار کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے بےفکری برتی جائے۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ﴿29﴾
اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ﴿30﴾
سوائے اپنی بیویوں اور ان باندیوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں، کیونکہ ایسے لوگوں پر کوئی ملامت نہیں ہے۔فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ﴿31﴾
البتہ جو لوگ ان کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں وہ حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ﴿32﴾
اور جو اپنی امانتوں اور عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ﴿33﴾
اور جو اپنی گواہیاں ٹھیک ٹھیک دینے والے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ﴿34﴾
اور جو اپنی نماز کی پوری پوری حفاظت کرنے والے ہیں۔اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ع﴿35﴾
وہ لوگ ہیں جو جنتوں میں عزت کے ساتھ رہیں گے۔فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ﴿36﴾
تو (اے پیغمبر) ان کافروں کو کیا ہوگیا کہ یہ تمہاری طرف چڑھے چلے آرہے ہیں۔عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ﴿37﴾
دائیں طرف سے بھی اور بائیں طرف سے بھی، ٹولیاں بنا بنا کر۔اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ﴿38﴾
کیا ان میں سے ہر شخص کو یہ لالچ ہے کہ اسے نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے ؟كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ﴿39﴾
ہرگز ایسا نہیں ہوگا ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے یہ خود جانتے ہیں۔فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ﴿40﴾
اب میں قسم کھاتا ہوں ان تمام مقامات کے مالک کی جہاں سے ستارے نکلتے اور جہاں سے غروب ہوتے ہیں کہ ہم یقینا اس بات پر قادر ہیں۔عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ١ۙ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ﴿41﴾
کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں، اور کوئی ہمیں ہرا نہیں سکتا۔فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ﴿42﴾
لہذا تم انہیں چھوڑ دو کہ یہ اپنی بےہودہ باتوں میں منہمک اور کھیل کود میں پڑ رہیں، یہاں تک کہ اپنے اس دن سے جا ملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ﴿43﴾
جس دن یہ جلدی جلدی قبروں سے اس طرح نکلیں گے جیسے اپنے بتوں کی طرف دوڑے جارہے ہوں۔خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ع﴿44﴾
ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ذلت ان پر چھائی ہوئی ہوگی۔ یہ وہی دن ہوگا جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔