78. An-Nabaالنبإ
The Announcement · Meccan · 40 ayahs · 2 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ﴿1﴾
یہ (کافر) لوگ کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ﴿2﴾
اس زبردست واقعے کے بارے میںالَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ﴿3﴾
جس میں خود ان کی باتیں مختلف ہیں۔كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ﴿4﴾
خبردار ! انہیں بہت جلد پتہ لگ جائے گا۔ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ﴿5﴾
دوبارہ خبردار ! انہیں بہت جل پتہ لگ جائے گا۔اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ﴿6﴾
کیا ہم نے زمین کو ایک بچھونا نہیں بنایا ؟وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ﴿7﴾
اور پہاڑوں کو (زمین میں گڑی ہوئی) میخیں ؟وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ﴿8﴾
اور تمہیں (مرد و عورت کے) جوڑوں کی شکل میں ہم نے پید ا کیا۔وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ﴿9﴾
اور تمہاری نیند کو تھکن دور کرنے کا ذریعہ ہم نے بنایا۔وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ﴿10﴾
اور رات کو پردے کا سبب ہم نے بنایا۔وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪﴿11﴾
اور دن کو روزی حاصل کرنے کا وقت ہم نے قرار دیا۔وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ﴿12﴾
اور ہم نے ہی تمہارے اوپر سات مضبوط وجود (آسمان) تعمیر کیے۔وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ﴿13﴾
اور ہم نے ہی ایک دہکتا ہوا چراغ (سورج) پیدا کیا۔وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ﴿14﴾
اور ہم نے ہی بھرے ہوئے بادلوں سے موسلا دھار پانی برسایا۔لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ﴿15﴾
تاکہ اس سے غلہ اور دوسری سبزیاں بھی اگائیں۔وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ﴿16﴾
اور گھنے باغات بھی۔اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ﴿17﴾
یقین جانو فیصلے کا دن ایک متعین وقت ہے۔یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ﴿18﴾
وہ دن جب صور پھونکا جائے گا تو تم سب فوج در فوج چلے آؤ گے۔وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ﴿19﴾
اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس کے دروازے ہی دروازے بن جائیں گے۔وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ﴿20﴾
اور پہاڑوں کو چلایا جائے گا تو وہ ریت کے سراب کی شکل اختیار کرلیں گے۔اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ﴿21﴾
یقین جانو جہنم گھات لگائے بیٹھی ہے۔لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ﴿22﴾
وہ سرکشوں کا ٹھکانا ہے۔لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ﴿23﴾
جس میں وہ مدتوں اس طرح رہیں گے۔لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ﴿24﴾
کہ اس میں نہ وہ کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے، اور نہ کسی پینے کے قابل چیز کا ہے۔اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ﴿25﴾
سوائے گرم پانی اور پیپ لہو کے۔جَزَآءً وِّفَاقًاؕ﴿26﴾
یہ ان کا پورا پورا بدلہ ہوگا۔اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ﴿27﴾
وہ (اپنے اعمال کے) حساب کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے۔وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ﴿28﴾
اور انہوں نے ہماری آیتوں کو بڑھ چڑھ کر جھٹلایا تھا۔وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ﴿29﴾
اور ہم نے ہر ہر چیز کو لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے۔فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ع﴿30﴾
اب مزہ چکھو ! اس لئے کہ ہم تمہارے لیے سزا کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کریں گے۔اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ﴿31﴾
جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا تھا، ان کی بیشک بڑی جیت ہے۔حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ﴿32﴾
باغات اور انگور۔وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ﴿33﴾
اور نو خیز ہم عمر لڑکیاں۔وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ﴿34﴾
اور چھلکتے ہوئے پیمانے۔لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ﴿35﴾
وہاں پر وہ نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے، اور نہ کوئی جھوٹی بات۔جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ﴿36﴾
یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے صلہ ہوگا۔ (اللہ کی) ایسی دین ہوگی جو لوگوں کے اعمال کے حساب سے دی جائے گی۔رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ﴿37﴾
اسی پروردگار کی طرف سے جو سارے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کا مالک، بہت مہربان ہے ! کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کے سامنے بول سکے۔یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا﴿38﴾
جس دن ساری روحیں اور فرشتے قطاریں بنا کر کھڑے ہوں گے، اس دن سوائے اس کے کوئی نہیں بول سکے گا۔ جسے خدائے رحمن نے اجازت دی ہو، اور وہ بات بھی ٹھیک کہے۔ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا﴿39﴾
وہ دن ہے جو برحق ہے۔ اب جو چاہے وہ اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانا بنا رکھے۔اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ع﴿40﴾
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تمہیں ایک ایسے عذاب سے خبردار کردیا ہے جو قریب آنے والا ہے جس دن ہر شخص وہ اعمال آنکھوں سے دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھے ہیں، اور کافر یہ کہے گا کہ کاش ! میں مٹی ہوجاتا۔