79. An-Naazi'aatالنازعات
Those who drag forth · Meccan · 46 ayahs · 2 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ﴿1﴾
قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو (کافروں کی روح) سختی سے کھینچتے ہیں۔وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ﴿2﴾
اور جو (مومنوں کی روح کی) گرہ نرمی سے کھول دیتے ہیں۔وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ﴿3﴾
پھر (فضا میں) تیرے ہوئے جاتے ہیں۔فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ﴿4﴾
پھر تیزی سے لپکتے ہیں۔فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ﴿5﴾
پھر جو حکم ملتا ہے اس (کو پورا کرنے) کا انتظام کرتے ہیں۔یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ﴿6﴾
کہ جس دن بھونچال (ہر چیز کو) ہلا ڈالے گا۔تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ﴿7﴾
پھر اس کے بعد ایک اور جھٹکا آئے گا۔قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ﴿8﴾
اس دن بہت سے دل لرز رہے ہوں گے۔اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ﴿9﴾
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ﴿10﴾
یہ (کافر لوگ) کہتے ہیں کہ : کیا ہم پہلی والی حالت پر لوٹا دیئے جائیں گے ؟ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ﴿11﴾
کیا اس وقت جب ہم بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوچکے ہوں گے ؟قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ﴿12﴾
کہتے ہیں کہ : اگر ایسا ہوا تو یہ بڑے گھاٹے کی واپسی ہوگی۔فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ﴿13﴾
حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بس ایک زور کی آواز ہوگی۔فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ﴿14﴾
جس کے بعد وہ اچانک ایک کھلے میدان میں ہوں گے۔هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ﴿15﴾
(اے پیغمبر) کیا تمہیں موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے ؟اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ﴿16﴾
جب ان کے پروردگار نے انہیں طوی کی مقدس وادی میں آواز دی تھی۔اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ﴿17﴾
کہ : فرعون کے پاس چلے جاؤ، اس نے بہت سرکشی اختیار کر رکھی ہے۔فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ﴿18﴾
اور اس سے کہو کہ کیا تمہیں یہ خواہش ہے کہ تم سنور جاؤ ؟وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ﴿19﴾
اور یہ کہ میں تمہیں تمہارے پروردگار کا راستہ دکھاؤں تو تمہارے دل میں خوف پیدا ہوجائے ؟فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ﴿20﴾
چنانچہ موسیٰ نے اس کو بڑی زبردست نشانی دکھائیفَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ﴿21﴾
پھر بھی اس نے (انہیں) جھٹلایا، اور کہنا نہیں مانا۔ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ﴿22﴾
پھر دوڑ دھوپ کرنے کے لیے پلٹا۔فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ﴿23﴾
پھر سب کو اکٹھا کیا اور آواز لگائی۔فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ﴿24﴾
اور کہا کہ : میں تمہارا اعلی درجے کا پروردگار ہوں۔فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ﴿25﴾
نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ع﴿26﴾
حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو اللہ کا خوف دل میں رکھتا ہو۔ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ﴿27﴾
(انسانو) کیا تمہیں پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کو ؟ اس کو اللہ نے بنایا ہے۔رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ﴿28﴾
اس کی بلندی اٹھائی ہوئی ہے، پھر اسے ٹھیک کیا ہے۔وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪﴿29﴾
اور اس کی رات کو اندھیری بنایا ہے، اور اس کے دن کی دھوپ باہر نکال دی ہے۔وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ﴿30﴾
اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا ہے۔اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪﴿31﴾
اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ نکالا ہے۔وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ﴿32﴾
اور پہاڑوں کو گاڑھ دیا ہے۔مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ﴿33﴾
تاکہ تمہیں اور تمہارے مویشیوں کو فائدہ پہنچائے۔فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ﴿34﴾
پھر جب وہ سب سے بڑا ہنگامہ برپا ہوگا۔یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ﴿35﴾
جس دن انسان اپنا سارا کیا دھرا یاد کرے گا۔وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى﴿36﴾
اور دوزخ ہر دیکھنے والے کے سامنے ظاہر کردی جائے گی۔فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ﴿37﴾
تو وہ جس نے سرکشی کی تھی۔وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ﴿38﴾
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی۔فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ﴿39﴾
تو دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ﴿40﴾
لیکن وہ جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف رکھتا تھا اور اپنے نفس کو بری خواہشات سے روکتا تھا۔فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ﴿41﴾
تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ﴿42﴾
یہ لوگ تم سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی ؟فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ﴿43﴾
تمہارا یہ بات بیان کرنے میں کیا کام ؟اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ﴿44﴾
اس کا علم تو تمہارے پروردگار پر ختم ہے۔اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ﴿45﴾
جو شخص اس سے ڈرتا ہو، تم تو صرف اس کو خبردار کرنے والے ہو۔كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ع﴿46﴾
جس دن یہ اس کو دیکھ لیں گے، اس دن انہیں ایسا معلوم ہوگا جیسے وہ (دنیا میں یا قبر میں) ایک شام یا ایک صبح سے زیادہ نہیں رہے۔