الرحیق المختوم

محاذ آرائی کے مختلف انداز

جب قریش نے دیکھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ دین سے روکنے کی حکمت کارگر نہیں ہو رہی ہے تو ایک بار انہوں نے غور و خوض کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا قلع قمع کرنے کیلئے مختلف طریقے اختیار کئے جن کا خلاصہ یہ ہے۔ 1۔ ہنسی، ٹھٹھا، تحقیر، استہزاء اور تکزیب۔ اسکا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو بددل کرکے انکے حوصلے توڑ دئیے جائیں۔ اس کے لئے مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناروا تہمتوں اور بیہودہ گالیون کا نشانہ بنایا۔ چنانچہ وہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پاگل کہتے۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ﴿وَقَالُواْ يَا اَيُّھَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْہِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُونٌ﴾(الحجر15: 6) ترجمہ: ان کفار نے کہا اے وہ شخص جس پر قران نازل ہوا تو پاگل ہے۔ اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادوگر اور جھوٹے ہونے کا الزام لگاتے چنانچہ ارشاد ہے: ﴿وَعَجِبُوا اَن جَاءَھُم مُّنذِرٌ مِّنْہُمْ وَقَالَ الْكَافِرُونَ ھَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ﴾ (ص 38: 4) ترجمہ: انہیں حیرت ہے کہ خود ان ہی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافرین یہ کہتے ہیں کہ یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے۔ یہ کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے پر غضب،منتقمانہ نگاہوں اور بھڑکتے ہوئے جذبات کے ساتھ چلتے تھے۔ ارشاد ہے: ﴿وَاِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِاَبْصَارِھِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ اِنَّہُ لَمَجْنُونٌ﴾ (القلم 68:51) ترجمہ: اور جب کفار اس قران کو سنتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ گویا آپ کے قدم اکھاڑ دینگے اور کہتے ہیں کہ یہ يقيناً پاگل ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جگہ تشریف فرما ہوتے اور آپ کے ارد گرد کمزور اور مظلوم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود ہوتے تو انہیں دیکھ کر مشرکین استہزاء کرتے ہوئے کہتے: ﴿أَهَؤُلاء مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا﴾(الانعام6: 53) ترجمہ: اچھا! یہی حضرات ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان سے احسان فرمایا ہے جواباً اللہ کا ارشاد ہے: ﴿أَلَيْسَ اللّٰهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ﴾(الانعام6: 53) ترجمہ: کیا اللہ شکر گزاروں کو سب سے زیادہ نہیں جانتا۔ عام طور پر مشرکین کی کیفیت وہی تھی جس کا نقشہ ذیل کی آیات میں کھینچا گیا ہے۔ ﴿إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُواْ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ، وَاِذَا مَرُّواْ بِھِمْ يَتَغَامَزُونَ ،وَاِذَا انقَلَبُواْ اِلَى اَھْلِھِمُ انقَلَبُواْ فَكِھينَ ، وَاِذَا رَاَوْھُمْ قَالُوا اِنَّ ھَؤُلاء لَضَالُّونَ ،وَمَا اُرْسِلُوا عَلَيْھِمْ حَافِظِينَ،فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُواْ مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ﴾(المطففین83: 29۔32) ترجمہ: جو مجرم تھے وہ ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔اور جب ان کے پاس سے گذرتے تو آنکھیں مارتے تھے اور جب اپنے گھروں کو پلٹتے تو لطف اندوز ہوتے ہوئے پلٹتے تھے،اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے کہ یہی گمراہ ہیں، حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔