الرحیق المختوم
محاذ آرائی کی دوسری صورت
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو مسخ کرنا،شکوک و شبہات پیدا کرنا،جھوٹا پرو پیگنڈا کرنا، تعلیمات سے لے کر شخصیات تک کو واہیات اعتراضوں کا نشانہ بنانا، اور یہ سب اس کثرت سے کرنا کہ عوام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و تبلیغ پر غور کرنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔ چنانچہ مشرکین قران کے متعلق کہتے تھے۔
﴿وَقَالُوا َسَاطِيرُ الاَوَّلِينَ اكْتَتَبَہَا فَھِيَ تُمْلَى عَلَيْہِ بُكْرَۃً وَاَصِيلا﴾( الفرقان25: 5)
ترجمہ: یہ پہلوں کے افسانے ہیں جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوا لیا ہے۔اب یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صبح و شام تلاوت کیے جاتے ہیں۔
﴿إِنْ هَذَا إِلاَّ إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ آخَرُونَ﴾( الفرقان25: 4)
ترجمہ: یہ محض جھوٹ ہے جسے اس نے گھڑ لیا ہےناور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی اعانت کی ہے۔
مشرکین یہ بھی کہتے تھے کہ
﴿إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ﴾( النحل16: 103)
ترجمہ: یہ (قران) تو آپ کو ایک بشر سکھاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کا اعتراض یہ تھا کہ:
﴿مَالِ ھَذَا الرَّسُولِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الاَََََََسوَاق﴾( الفرقان25: 7)
ترجمہ: یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔
قران کریم میں بہت سے مقامات پر مشرکین کا رد بھی کیا گیا ہے کہیں اعتراض نقل کرکے اور کہیں نقل کے بغیر۔