الرحیق المختوم
محاذ آرائی کی تیسری صورت
پہلوں کے واقعات اور افسانوں سے قران کا مقابلہ کرنا اور لوگوں کو اسی میں الجھائے اور پھنسائے رکھنا۔ چنانچہ نظر بن حارث کا واقعہ ہے کہ اس نے ائک بار قریش سے کہا کہ: قریش کے لوگو! خدا کی قسم تم پر ایسی افتاد پڑی ہے کہ تم لوگ اب تک اسکاکوئی توڑ نہیں لا سکے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں جوان تھے تو تمہارے سب سے پسندیدہ آدمی تھے۔سب سے سے زیادہ سچّے اور سب سے زیادہ ایماندار تھے۔اب جبکہ ان کی کنپٹیوں پر سفید دکھائی دینے کو ہے (یعنی ادھیڑ ہو چلے ہیں) اور وہ تمہارے پاس کچھ باتیں لیکر آئے ہیں تو تم کہتے ہو کہ وہ جادوگر ہیں! نہیں بخدا وہ جادو گر نہیں ہے۔ہم نے جادوگر دیکھے ہیں ان کی جھاڑ پھونک اور گرہ بندی بھی دیکھی ہے، آور تم لوگ کہتے ہو کہ وہ کاہن ہیں، نہیں بخدا وہ کاہن بھی نہیں۔ہم نے کاہن بھی دیکھے ہیں، ان کی الٹی سیدھی حرکتیں بھی دیکھی ہیں اور ان کی فقرہ بندیاں بھی سنی ہیں۔تم لوگ کہتے ہو کہ وہ شاعر ہیں۔نہیں بخدا وہ شاعر بھی نہیں، ہم نے شعر بھی دیکھا ہے اور اس کے سارے اصناف،ہجز،رجز وغیرہ بھی سنے ہیں۔تم لوگ کہتے ہو وہ پاگل ہیں۔ نہیں، بخدا وہ پاگل بھی نہیں، ہم نے پاگل پن بھی دیکھا ہے، یہاں نہ اس طرح کی گھٹن ہے نہ ویسی بہکی بہکی باتیں ہیں اور نہ انکے جیسی فریب کارانہ گفتگو۔ قریش کے لوگو! سوچو! خدا کی قسم تم پر زبردست افتاد آن پڑی ہے۔
اس کے بعد نضر بن حارث حیرہ گیا۔وہاں بادشاہوں کے واقعات اور رستم اور اسفند یار کے قصے سیکھے،پھر واپس آیا تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جگہ بیٹھ کر اللہ کی باتیں کرتے اور اس کی گرفت سے لوگوں کو ڈراتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ شخص وہاں پر پہنچ جاتا اور کہےا کہ بخدا! محمد کی باتیں مجھ سے بہتر نہیں،اس کے بعد وہ فارس کے بادشاہوں، اور رستم و اسفندیار کے قصے سناتا پھر کہتا۔ آخر کس بنا پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مجھ سے بہتر ہے۔[1]
ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نضر نے چند لونڈیاں بھی خرید رکھی تھیں اور جب وہ کسی آدمی کے متعلق سنتا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مائل ہے تو اس پر ایک لونڈی مسلط کر دیتا جو اسے کھلاتی پلاتی اور گانے سناتی، یہاں تک کہ اسلام کی طرف اسکا جھکاؤ باقی نہ رہ جاتا۔ اسی سلسلے میں یہ ارشاد نازل ہوا۔[2]
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَھْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّہِ﴾(لقمان31:6)
’’کچھ لوگ ایسے ہیں جو کھیل کی بات خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں۔‘‘