الرحیق المختوم

محاذ آرائی کی چوتھی صورت

سودے بازیاں جن کے ذریعے مشرکین کی یہ کوشش تھی کہ اسلام اور جاہلیت دونوں بیچ راستے میں ایک دوسرے سے جا ملیں۔ یعنی کچھ دو اور کچھ لو کے اصول پر اپنی بعض باتیں مشرکین چھوڑ دیں اور بعض باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ دیں۔ قران پاک میں اسی کے متعلق ارشاد ہے: ﴿وَدُّو لَو تَدھِنُ فَیُد ھِنوُنَ﴾( القلم68: 9) ’’وہ چاہتے ہیں کہ آپ ڈھیلے پڑ جائیں تو وہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔‘‘ چنانچہ ابن جریر اور طبرانی کی ایک روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے معبودوں کی پوجا کیا کریں اور ایک سال وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی عبادت کیا کرینگے۔عبد بن حمید کی ایک روایت اس طرح ہے کہ مشرکین نے کہا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معبودوں کو قبول کر لیں تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی عبادت کرنگے۔[1] ابن اسحٰق کا بیا ن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ اسود بن مطلّب بن اسد بن العزی، ولید بن مغیرہ، امیّہ بن خلف اور عاص بن وائل سہمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے۔یہ سب اپنی قوم کے بڑے لوگ تھے۔ بولے اے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم! آؤ جسے تم پوجتے ہو اسے ہم بھی پوجیں، اور جسے ہم پوجتے ہیں اسے تم بھی پوجو۔اس طرح ہم اور تم اس کام میں مشترک ہو جائیں۔اب اگر تمہارا معبود ہمارے معبود سے بہتر ہے تو ہم اس سے اپنا حصہ حاصل کر چکے ہونگے اور ہمارا معبود تمہارے معبود سے بہتر ہوا تو تم اس سے اپنا حصہ حاصل کر چکے ہونگے۔ اس پر اللہ تعالی نے پوری سورۃ الکافرون نازل فرمائی۔جس میں اعلان کیا گیا کہ جسے تم لوگ پوجتے ہو اسے میں نہیں پوج سکتا[2] اور اس فیصلہ کن جواب کے ذریعے ان کی مضحکہ خیز گفت و شنید کی جڑ کاٹ دی گئی۔روایتوں میں اختلاف غالبا" اس لئے ہے کہ اس سودے بازی کی کوشش بار بار کی گئی۔