الرحیق المختوم

ظلم و جور

سن 4 نبوّت میں جب پہلی بار اسلامی دعوت منظر عام پر آئی تو مشرکین نے اسے دبانے کے لئے وہ کاروائیاں انجام دیں جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔یہ کاروائیاں تھوڑی تھوڑی اور درجہ بہ درجہ عمل میں لائی گئیں اور ہفتوں بلکہ مہینوں مشرکین نے اس سے آگےقدم نہیں بڑھایا اور ظلم و زیادتی شروع نہیں کی،لیکن جب دیکھا کہ یہ کاروائیاں اسلام کی دعوت روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں تو ایک بار پھر جمع ہوئے اور25 سراداران قریش کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا سربراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابو لہب تھا۔ اس کمیٹی نے باہمی مشورے اور غور و خوض کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اجمعین رضی اللہ عنہم کے خلاف ایک فیصلہ کن قرارداد منظور کی ۔یعنی یہ طے کیا کہ اسلام کی مخالفت، پیغمبر اسلام کی ایذا رسانی اور اسلام لانے والوں کو طرح طرح کو جور و ستم اور ظلم و تشدّد کا نشانہ بنانے میں کوئی کثر اٹھا نہ رکھی جائے۔[3] مشرکین نے یہ قرارداد طے کرکے اسے روبہ عمل لانے کاعزم مصمّم کر لیا۔ مسلمانوں اور خصوصاً کمزور مسلمانوں کے اعتبار سے تو یہ کام بہت آسان تھا،لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاظ سے بڑی مشکلات تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذاتی طور پر پرشکوہ، باوقار اور منفرد شخصیت کے مالک تھے۔دوست دشمن سب ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعظیم کی نظر سے دیکھتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی شخصیت کا سامنا اکرام و احترام سے ہی کیا جا سکتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی نیچ اور ذلیل حرکت کی جراءت کوئی رذیل اور احمق ہی کر سکتا تھا۔اس ذاتی عظمت کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طالب کی حمایت اور حفاظت بھی حاصل تھی اور ابو طالب مکے کے ان گنے چنے لوگوں میں سے تھے جو اپنی ذاتی اور اجتماعی دونوں حیثیتوں سے اتنے باعظمت تھے کہ کوئی شخص انکا عہد توڑنے اور انکے خانوادے پر ہاتھ ڈالنے کی جسارت نہیں کر سکتا تھا۔اس صورت حال نے قریش کو سخت قلق اور پریشانی اور کشمکش سے دوچار کر رکھا تھا۔مگر سوال یہ ہے کہ جو دعوت ان کی مذہبی پیشوائی اور دنیاوی سربراہی کی جڑ کاٹ دینا چاہتی تھی آخر اسکو اتنا لمبا صبر کب تک؟ بلآخر مشرکین نے ابو لہب کی سربراہی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر ظلم و جور کا آآغاز کر دیا۔در حقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ابو لہب کا مؤقف روز اوّل ہی سے، جبکہ ابھی قریش نے اس طرح کی بات سوچی بھی نہ تھی، یہی تھا، اس نے بنو ہاشم کی مجلس میں جو کچھ کیا پھر کوہ صفا پر جو حرکت کی اس کا ذکر پچھلے صفحات میں آچکا ہے۔ بعض روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس نے کوہ صفا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کے لئے پتھر بھی اٹھایا تھا۔[1] بعثت سے پہلے ابو لہب نے اپنے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کی شادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں رقیہ اور امّ کلثوم رضی اللہ عنہ سےکی تھی لیکن بعثت کے بعد اس نے نہایت سختی اور درشتی سے ان دونوں کو طلاق دلوا دی۔[2] اسی طرح جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صاحبزادے عبداللہ کا انتقال ہوا تو ابو لہب کو اس قدر خوشی ہوئی کہ وہ دوڑتا ہوا اپنے رفقاء کے پاس پہنچا اور انہیں یہ خوشخبری سنائی کہ محمّد صلی اللہ علیہ وسلم ابتر(نسل بریدہ) ہوگئے ہیں۔[3] ہم یہ بھی ذکر چھیڑ چکے ہیں کہ ایام حج میں ابو لہب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کے لئے بازاروں اور اجتماعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے لگا رہتا تھا۔ طارق بن عبداللہ محاربی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص صرف تکذیب ہی پر بس نہیں کرتا تھا بلکہ پتھر بھی مارتا رہتا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیاں خون آلود ہو جاتی تھیں۔[1]ابو لہب کی بیوی امّّ جمیل، جس کا نام اردیٰ تھا اور جو حرب بن امیّہ کی بیٹی اور ابو سفیان کی بہن تھی وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت میں اپنے شوہر سے پیچھے نہ تھی چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں اور دروازے پر رات کو کانٹے ڈال دیا کرتی تھی،خاصی بدزبان اور مفسدہ پرداز بھی تھی۔چنانچہ نبی صٌی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدزبانی کرنا،لمبی چوڑی دسیسہ کاری و افتراء سے کام لینا، فتنہ کی آگ بھڑکانا اور خوفناک جنگ بپا رکھنا اسکا شیوہ تھا۔ اسی لئے قران نے اسکو حَمَّا لَطَۃَ الحَطَب (لکڑی ڈھونے والی) کا لقب عطا کیا۔ جب اسے معلوم ہوا کے اس کی اور اس کے شوہر کی مذمت میں قران نازل ہوا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتی ہوئی آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس مسجد حرام میں تشریف فرما تھے، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی ہمراہ تھے۔ یہ مٹی بھر پتھ لئے ہوئے تھی، سامنے کھڑی ہوئی تو اللہ نے اس کی نگاہ پکڑ لی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکی۔صرف ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہی تھی۔اس نے سامنے پہنچتے ہی سوال کیا ابو بکر تمہارا ساتھی کہاں ہے؟ مجھے معلوم ہوا کہ وہ میری ہجو کرتا ہے۔بخدا اگر میں اسے پاگئی تو اس کے منہ پر یہ پتھر دے مارونگی،دیکھو خدا کی قسم میں بھی شاعرہ ہوں، پھر اس نے یہ شعر سنایا: مُذمَّما[2] عَصَینَا وَمرَہُ اَبَینَا وَدِنَہُ قَلَینَا ’’ ہم نے مذمم کی نافرمانی کی، اس کے امر کو تسلیم نہ کیا، اس کے دین کو نفرت اور حقارت سے چھوڑ دیا۔‘‘ اس کے بعد واپس چلی گئی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اس نے مجھے نہیں دیکھا۔اللہ نے اس کی نگاہ پکڑ لی تھی۔[3] ابو بکر بزّاز نے بھی یہ واقعہ روایت کیا ہے اور اس میں اتنا مزید اضافہ ہے کہ جب وہ ابو بکر صدیق کے پاس کھڑی ہوئی تھی تو اس نے یہ بھی کہا؛ابو بکر! تمہارے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے۔ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا؛ نہیں اس عمارت کے رب کی قسم،نہ وہ شعر کہتے ہیں نہ اسے زبان پر لاتے ہیں۔اس نے کہا تم سچ کہتے ہو۔ ابو لہب اس کے باوجود یہ ساری حرکتیں کر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا اور پڑوسی تھا۔اسکا گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے متصل تھا۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے پڑوسی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر کے اندر ستاتے تھے۔ ابن اسحٰق کا بیا ن ہے جو گروہ گھر کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر کے اندر اذیت دیا کرتا تھا وہ یہ تھا۔حکم بن ابی الّعاص بن امیّہ، عقبہ بن ابی معیط، عدی بن حمراءثقفی،ابن الاصداءحذلی، یہ سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوسی تھے۔اور ان میں سے حکم بن ابی العاص[1]کے علاوہ کوئی بھی مسلمان نہ ہوا۔ انکے ستانے کا طریقہ یہ تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تو کوئی شخص بکری کی بچہ دانی اس طرح ٹکا کر پھینکتا کہ وہ ٹھیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر گرتی،چولھے پر ہانڈی چڑھائی جاتی تو بچے دانی اس طرح پھینکتے کے سیدھے ہانڈی میں جا گرتی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجبور ہوکر ایک گھروندا بنا لیا تاکہ نماز پڑھتے ہوئے ان سے بچ سکیں۔ بہرحال جب آپ صی اللہ علیہ وسلم پر یہ گندگی پھینکی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکڑی پر اسے لیکر نکلتے اور دروازے پر کھڑے ہوکر فرماتے:" اے بنی عبد المناف! یہ کیسی ہمسائیگی ہے؟ پھر اسے راستے میں ڈال دیتے۔[2] عقبہ بن ابی معیط اپنی بد بختی اور خباثت میں اور بڑھا ہواتھا۔چنانچی صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ ونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے کچھ رفقاء بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: کون ہے جو بنی فلاں کے اونٹ کی اوجھڑی لائے اور جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کریں تو ان کی پیٹھ پر ڈال دے؟ اس پر قوم کا بدبخت ترین آدمی____عقبہ بن ابی معیط [3] _____اٹھا اور اوجھڑی لاکر انتظار کرنے لگا۔جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تشریف لے گئے تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر دونوں کندھوں کے درمیان ڈال دیا۔ میں سارا ماجرا دیکھ رہا تھا، مگر کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ کاش میرے اندر بچانے کی طاقت ہوتی۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ ہنسی کے مارے ایک دوسرے پر گرنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے ہی میں پڑے رہے سر نہ اٹھایا۔ یہاں تک کہ فاطمہ رضی اللہ عنہ آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ سے اوجھ اٹھا کر پھینکی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا۔ پھر تین بار فرمایا۔ ((اَلَّھُمَّ عَلَیکَ بِقُرَیش))’’اے اللہ قریش کو پکڑلے۔‘‘جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی تو ان پر بہت گراں گزری کیونکہ انکا عقیدہ تھا کہ اس شہر میں دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے لے کر بددعا کی: ’’اے اللہ ابو جہل کو پکڑ لے،اور عتبہ بن ربیعہ، شیبی بن ربیعہ،ولید بن عتبہ، امیّہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ لے۔‘‘ انہوں نے ساتویں کا نام بھی گنایا لیکن راوی کو یاد نہ رہا____ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں" اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے دیکھا کہ جن لوگوں کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گن گن کر لئے تھے سب کے سب بدر کے کنویں میں مقتول پرے ہوئے تھے۔[1] امیّہ بن خلف کا وطیرہ تھا کہ وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو لعن طعن کرتا۔اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔۔ ﴿وَيْلٌ لِّكُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ﴾ (الھمزہ،آیت 1) ترجمہ: ہر لعن طعن اور برائیاں کرنے والے کے لئے خرابی ہے۔‘‘ ابن ہشام کہتے ہیں کہ ھمزہ وہ شخص ہے جو علانیہ گالی بکے اور آنکھیں ٹیڑھی کرکے اشارے کرے۔اور لمزہ وہ شخص ہے جو پیٹھ پیچھے لوگوں کی برائیاں کرے اور انہیں اذیت دے۔[2] امیّہ کا بھائی ابی بن خلف، عقبہ بن معیط کا گہرا دوست تھا۔ایک بار عقبہ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کچھ سنا۔ابی کو معلوم ہوا تو اس نے عقبہ کو سخت سست کہا۔عتاب کیا اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر تھوک آئے۔ آخر عقبہ نے ایسا ہی کیا۔خؤد ابی بن خلف نے ایک مرتبہ ایک بوسیدہ ہڈی لاکر توڑی اور ہوا میں پھونک کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اڑا دی۔[3] اخنس بن شریق ثقفی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے والوں میں تھا۔قران میں اس کے نو اوصاف بیان کئے گئے ہیں جس سے اس کے کردار کا اندازہ ہوتا ہے۔ارشاد ہے: ﴿وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلاَّفٍ مَّھِينٍ ،هَمَّازٍ مَّشَّاء بِنَمِيمٍ ،مَنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيمٍ ،عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ﴾( القلم68: 10۔13) ’’تم بات نہ مانو کسی قسم کھانے والے ذلیل کی جو لعن طعن کرتا ہے،چغلیاں کرتا ہے۔بھلائی سے روکتا ہے۔حد درجہ ظالم،بد عمل اور جفاکار ہے،اور اس کے بعد بھی بد اصل بھی ہے۔‘‘ ابو جہل کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قران سنتا تھا لیکن بس سنتا ہی تھا ایمان و اطاعت اور ادب و خشیت اختیار نہیں کرتا تھا۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بات سے اذیت پہنچاتا اور اللہ کی راہ سے روکتا تھا۔پھر اپنی اس حرکت اور برائی پر ناز اور فخر کرتا ہوا جاتاتھا، گویا اس نے کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام دے دیا ہے۔قران مجید کی یہ آیات اسی شخص کے بارے میں نازل ہوئیں۔ ﴿فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّیٰ ﴾[1] ( الخ) (القیامہ75: 31) ترجمہ: نہ اس نے صدقہ دیا نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور پیٹھ پھیری۔پھر وہ اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا،یہ تیرے خوب لائق ہے خوب لائق ہے۔ اس شخص نے پہلے دن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اسی دن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے روکتا رہا۔ایک بار رسول صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھ رہے تھے کہ اسکا گزر ہوا، دیکھتے ہی بولا محمّد! کیا میں نے تجھکو اس سے منع نہیں کیا تھا؟ ساتھ ہی دھمکی بھی دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ڈانٹ کر سختی سے جواب دیا۔اس پر وہ کہنے لگا، اے محمّد مجھے کاہے کو دھمکی دے رہے ہو دیکھو! خدا کی قسم! اس وادی(مکہ) میں میری محفل سب سے بڑی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿فَلیَدعُ نَادیَہ﴾[2] ’’اچھا!تو وہ بلائے اپنی محفل کو (ہم بھی سزا کے فرشتوں کو بلائے دیتے ہیں)۔‘‘ ایک روایت میں مذکور ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکا گریبان گلے کے پاس سے پکڑ لیا اور جھنجوڑتے ہوئے فرمایا: ﴿أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى،ثُمَّ اَوْلَى لَكَ فَاَوْلَى﴾(القیامہ75:34۔35) ترجمہ: تیرے لئے بہت ہی موزوں ہے۔تیرے لئے بہت ہی موزوں ہے۔ اس پر اللہ کا یہ دشمن کہنے لگا اے محمدّّ ! مجھے دھمکی دے رہے ہو؟ خدا کی قسم تم اور تمہارا پروردگار میرا کچھ نہیں کر سکتے۔میں مکے کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے پھرنے والوں میں سب سے زیادہ معزّز ہوں۔[3] بہر حال اس ڈانٹ کے باوجود ابو جہل اپنی حماقت سے باز آنے والا نہیں تھا بلکہ اس کی بد بختی میں کچھ اور اضافہ ہی ہو گیا۔چنانچہ صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ( ایک بار سرداران قریش سے) ابو جہل نے کہا کہ محمّد آپ حضرات کے روبرو اپنا چہرہ خاک آلود کرتا ہے؟ جواب دیا گیا۔ ہاں! اس نے کہا لات و عزّیٰ کی قسم! اگر میں نے (اس حالت) میں اسے دیکھ لیا تو اس کی گردن روند دونگا اور اسکا چہرہ مٹی پر رگڑ دونگا۔اس کے بعد اس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا اور اس زعم میں چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن روند دے گا لیکن لوگوں نے اچانک کیا دیکھا کہ وہ ایڑی کے بل پلٹ رہا ہے اور دونوں ہاتھوں سے بچاؤ کر رہا ہے، لوگوں نے کہا ابوالحکم! تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرے اور اس کے درمیان آگ کی خندق ہے، حولناکیاں ہیں اور پر ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اسکا ایک ایک عضو اچک لیتے۔[1] جوروستم کی یہ کاروائیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو رہی تھیں اور عوام و خواص کے نفوذ میں آپ کی منفرد شخصیت کا جو وقار اور احترام تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکّے کے سب سے محترم اور عظیم انسان ابو طالب کی جو حمایت اور حفاظت حاصل تھی اس کے باوجود ہو رہی تھیں۔باقی رہیں وہ کاروائیاں جو مسلمانوں اور خصوصاً ان میں سے بھی کمزور افراد کی ایذا رسانی کے لئے کی جا رہی تھیں تو وہ کچھ زیادہ ہی سنگین اور تلخ تھیں۔ ہر قبیلہ اپنے مسلمان ہونے والے افراد کو طرح طرح کی سزائیں دے رہا تھااور جس شخص کا کوئی قبیلہ نہ تھا ان پر اوباشوں اور سرداروں نے ایسے ایسے جوروستم روا رکھے تھے جنہیں سن کر مظبوط انسان کا دل بھی بے چینی سے تڑپ جاتا ہے۔ ابو جہل جب کسی معزّز اور طاقتور انسان کے مسلمان ہونے کی خبر سنتا تو اسے برا بھلا کہتا،ذلیل و رسوا کرتا،اور مال و جاہ کو سخت خسارے سے دوچار کرنے کی دھمکیاں دیتا۔اور اگر کوئی کمزور آدمی مسلمان ہوتا تو اسے مارتا اور دوسروں کو بھی برانگیختہ کرتا۔[2] حضرت عثمان بن عفّان رضی اللہ عنہ کا چچا انہیں کھجور کی چٹائی میں لپیٹ کر نیچے سے دھواں دیتا۔[3]حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی ماں کو انکے اسلام لانے کا علم ہوا تو انکا دانہ پانی بند کر دیا اور انہیں گھر سے نکال دیا۔یہ بڑے نازو نعمت میں پلے تھے، حالات کی شدت سے دوچار ہوئے تو کھال اس طرح ادھڑ گئی جیسے سانپ کینچلی چھوڑتا ہے۔[4] حضرت بلال امیّہ بن خلف جمحی کے غلام تھے۔امیّہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں کو دے دیتا تھا اور وہ انہیں مکے کو پہاڑوں میں گھماتے پھراتے تھے یہاں تک کے گردن پر رسی کا نشان پڑ جاتا تھا۔خود امیّہ بھی انہیں باندھ کر ڈنڈے سے مارتا تھا اور چلچلاتی دھوپ میں جبراً بٹھائے رکھتا تھا۔کھانا پینا بھی نہ دیتا اور بھوکا پیاسا رکھتا،اور اس سے بڑھ کر یہ ظلم کرتا تھا کہ جب دوپہر کی گرمی شباب پر ہوتی تو مکّہ کے پتھریلے کنکروں پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھ رکھوا دیتا۔پھر کہتا خدا کی قسم! تو اسی طرح پڑا رہیگا یہاں تک کہ تو مر جائے،یا محمّد کے ساتھ کفر کرے۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس حالت میں بھی فرماتے۔احد احد،ایک روز یہی کاروائی جاری تھی کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا۔انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ایک کالے غلام کے بدلے، اور کہا جاتا ہے کہ دوسو درہم(735گرام چاندی) یا دوسو اسی درہم ( ایک کلو سے زائد) چاندی کے بدلے خرید کر آزاد کرا دیا۔[1] حضرت عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے غلام تھے۔انہوں نے اور انکے والدین نے اسلام قبول کیاتو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔مشرکین جن میں ابو جہل پیش پیش تھاسخت دھوپ کے وقت انہیں پتھریلی زمین پر لے جا کر اس کی تپش سے سزا دیتے۔ایک بار انہیں اسی طرح سزا دی جا رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" آل یاسر صبر کرنا۔تمہارا ٹھکانہ جنت ہے۔"آخرکار یاسر ظلم کی تاب نہ لا کر وفات پا گئے۔اور سمیّہ جو حضرت عمّار کی والدہ تھیں،ان کی شرمگاہ میں ابو جہل نے نیزہ مارا،اور وہ دم توڑ گئیں۔یہ اسلام کی پہلی شہیدہ ہیں۔حضرت عمّار پر سختی کا سلسلہ جاری رہا،انہیں کبھی دھوپ میں تپایا جاتا تو کبھی انکے سینے پر سرخ پتھر رکھ دیا جاتااور کبھی پانی میں ڈبویا جاتا۔ان سے مشرکین کہتے تھے کہ جب تک تم محمّد کو گالی نہیں دوگے یا لات و عزّیٰ کے بارے میں کلمہ خیر نہ کہو گے ہم تمہیں چھوڑ نہیں سکتے۔ حضرت عمّار نے مجبورا" ان کی بات مان لی،پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے ہوئے اور معذرت کرتے ہوئی تشریف لائے۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَن كَفَرَ بِاللّٰه مِن بَعْدِ اِيمَانِہِ اِلاَّ مَنْ اُكْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالاِيمَانِ﴾(النحل16: 103) ترجمہ: جس نے اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر کیا،اس پر اللہ کا غضب اور عذاب عظیم ہے،لیکن جسے مجبور کیا جائے اور اسکا دل ایمان پر مطمئن ہو(اس پر کوئی گرفت نہیں)۔ [2] حضرت فکیہ جن کا نام افلح تھا بنی عبدالدار کے غلام تھے۔انکے مالکان انکاپاؤں رسی سے باندھ کر انہیں زمین پر گھسیٹتے پھرتے تھے۔[3] حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ،قبیلہ خزاعہ کی ایک عورت امّ انمار کے غلام تھے۔مشرکین انہیں طرح طرح کی سزائیں دیتے تھے،انکے سر کے بال نوچتے تھے، اور سختی سے گردن مروڑتے تھے، انہیں کئی بار دھکتے ہوئے انگاروں پر لٹا کر اوپر سے پتھر رکھ دیا کہ وہ اٹھ نہ سکیں۔[1] زنیرہ[2]اور نہدیہ اور ان کی صاحبزادی اور امّ عبیس یہ سب لونڈیاں تھیں،انھوں نے اسلام قبول کیا اور مشرکین کے ہاتھوں اسی طرح کی سنگین سزاؤں سے دوچار ہوئیں جنکے چند نمونے ذکر کئے جا چکے ہیں۔قبیلہ بنی عدی کے ایک خانوادے بنی مومل کی ایک لونڈی مسلمان ہوئیں تو انہیں حضرت عمر ابن خطاب جو بنی عدی سے تعلق رکھتے تھےاور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے____ اس قدر مارتے تھے کہ مارتے مارتے خود تھک جاتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے تجھے (کسی مروّت کی وجہ سے نہیں (بلکہ محض) تھک جانے کی وجہ سے چھوڑا ہے۔[3] آخرکار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور عامر بن فہیرہ کی طرح ان لونڈیوں کو بھی خرید کر آزاد کر دیا۔[4] مشرکین نے سزا کی ایک شکل یہ بھی اختیار کی تھی کہ بعض بعض صحابہ کو اونٹ اور گائے کی کچی کھال میں لپیٹ کر دھوپ میں ڈال دیتے تھے۔اور بعض کو لوہے کی زرہ پہنا کر جلتے ہوئے پتھر پر لٹا دیتے تھے۔[5] در حقیقت اللہ کی راہ میں ظلم و جور کا نشانہ بننے والوں کی فہرست بہت لمبی ہے اور بڑی تکلیف دہ بھی ۔حالت یہ تھی کہ جس کسی کے مسلمان ہونے کا پتہ چل جاتا تھا مشرکین اس کے درپے آزار ہو جاتے تھے۔