الرحیق المختوم

دار ارقم

ان ستم رانیوں کے مقابل حکمت کا تقاضایہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو قولاً اور عملاً دونوں طرح اسلام کے اظہار سے روک دیں، اور انکے ساتھ خفیہ طریقے پر اکٹھے ہوں کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ کھلّم کھلاّ اکٹھا ہوتے تو مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تزکیہ نفس اور تعلیمٍ کتاب و حکمت کا کام میں يقيناً رکاوٹ ڈالتے اور اس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان تصادم ہو سکتا تھا۔بلکہ عملاً 4 سن نبوّت میں ہو چکا تھا۔جسکی تفصیل یہ ہے کہ صحابہ کرام گھاٹیوں میں اکٹھے ہو کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ایک بار قریش کے کچھ لوگوں نے دیکھ لیا تو گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑے پر اتر آئے، جواباًحضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ایسی ضرب لگائی کہ اسکا خون بہہ پڑا اور یہ پہلا خون تھا جو اسلام میں بہایا گیا۔[6] یہ واضح ہی ہے کہ اگر اس طرح کا ٹکراؤ بار بار ہوتا اور طول پکڑتا تو مسلمانوں کے خاتمے کی نوبت آسکتی تھی، لہٰذا حکمت کا تقاضایہ تھا کہ کام پس پردہ کیا جائے۔چنانچہ عام صحابہ کرام اپنا اسلام،اپنی عبادت،اپنی تبلیغ اور اپنے باہمی اجتماعات سب کچھ پس پردہ کرتے تھے۔البتّہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کا کام مشرکین کے روبرو کھلم کھلاّ انجام دیتے تھے اور عبادت کا کام بھی۔کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے روک نہیں سکتی تھی،تاہم آپ بھی مسلمانوں کے ساتھ خود ان کی مصلحت کے پیش نظر خفیہ طور سے جمع ہوتے تھے۔ادھر ارقم بن ابی الارقم مخزومی کا مکان کوہٍ صفا پر سرکشوں کی نگاہوں اور ان کی مجلسوں سے دور الگ تھلگ واقع تھا،اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچویں سن نبوّت سے اسی مکان کو اپنی دعوت اور مسلمانوں کے ساتھ اپنے اجتماع کا مرکز بنا لیا۔[1]