الرحیق المختوم

ابتدائی مسلمانوں کا صبروثبات اور اس کے اسباب و عوامل

یہاں پہنچ کر گہری سوجھ بوجھ اور مضبوط دل و دماغ کا آدمی بھی حیرت زدہ رہ جاتا ہے اور بڑے بڑے عقلاء دم بخود ہو کر پوچھتے ہیں کہ آخر وہ کیا اسباب و عوامل تھے جنہوں نے مسلمانوں کو اس قدر معجزانہ حد تک ثابت قدم رکھا؟ آخر مسلمانوں نے کس طرح ان بے پایاں مظالم پر صبر کیا جنہیں سُن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل لرز اٹھتا ہے۔ بار بار کھٹکنے اور دل کی تہوں سے ابھرنے والے اس سوال کے پیش نظر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان اسباب و عوامل کی طرف ایک سرسری اشارہ کر دیا جائے۔ 1۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم سبب اللہ کی ذاتِ واحد پر ایمان اور اس کی ٹھیک ٹھیک معرفت ہے کیونکہ کب ایمان کی بشاشت دلوں میں جانگزین ہو جاتی ہے تو وہ پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ہے اور اسی کا پلہ بھاری رہتا ہے اور جو شخص ایسے ایمانِ محکم اور یقینِ کامل سے بہرہ ور ہو وہ دُنیا کی مشکلات کو خواہ وہ جتنی بھی زیادہ ہوں اور جیسی بھی بھاری بھرکم، خطرناک اور سخت ہوں، اپنے ایمان کے بالمقابل اس کائی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا جو کسی بند توڑ اور قلعہ شکن سیلاب کی بالائی سطح پر جم جاتی ہے۔ اس لیے مومن اپنے ایمان کی حلاوت، یقین کی تازگی اور اعتقاد کی بشاشت کے سامنے ان مشکلات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ: ﴿فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الأَرْض﴾ (الرعد13:17) ’’جو جھاگ ہے وہ تو بے کار ہو کر اڑ جاتا ہے اور جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہے وہ زمین میں برقرار رہتی ہے‘‘ پھر اسی ایک سبب سے ایسے اسباب وجود میں آتے ہیں جو اِس صبروثبات کو قوت بخشتے ہیں مثلًا: 2۔ پرکشش قیادت: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جو امتِ اسلامیہ ہی نہیں بلکہ ساری انسانیت کے سب سے بلند پایہ قائد و رہنما تھے ایسے جسمانی جمال، نفسانی کمال، کریمانہ اخلاق، باعظمت کردار اور شریفانہ عادات و اطوار سے بہرہ ور تھے کہ دل خود بخود آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی جانب کھنچے چلے جاتے تھے اور طبیعتیں خود بخود آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر نچھاور ہوتی تھیں، کیونکہ جن کمالات پر لوگ جان چھڑکتے ہیں ان سے آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اتنا بھرپور حصہ ملا تھا کہ اتنا کسی اور انسان کو دیا ہی نہیں گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم شرف وعظمت اور فضل و کمال کی سب سے بلند چوٹی پر جلوہ فگن تھے، عفت و امانت، صدق و صفا اور جملہ امورِ خیر میں آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو وہ امتیازی مقام تھا کہ رفقاء تو رفقاء آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دشمنوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی یکتائی و انفرادیت پر کبھی شک نہ گذرا۔ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زبان سے جو بات نکل گئی، دشمنوں کو بھی یقین ہو گیا کہ وہ سچی ہے اور ہو کر رہے گی۔ واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں۔ ایک بار قریش کے ایسے تین آدمی اکٹھے ہوئے جن میں سے ہر ایک نے اپنے بقیہ دو ساتھیوں سے چھپ چھپا کر قرآنِ مجید سنا تھا لیکن بعد میں ہر ایک کا راز دوسرے پر فاش ہو گیا تھا۔ ان ہی تین آدمیوں میں سے ایک ابوجہل بھی تھا۔ تینوں اکٹھے ہوئے تو ایک نے ابوجہل سے دریافت کیا کہ بتاؤ تم نے جو کچھ محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) سے سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ ابو جہل نے کہا: “میں نے کیا سنا ہے؟ بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے اور بنو عبدِ مناف نے شرف و عظمت میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے (غرباء و مساکین کو) کھلایا تو ہم نے بھی کھلایا، انہوں نے داد دہش میں سواریاں عطا کیں تو ہم نے بھی عطا کیں، انہوں نے لوگوں کو عطیات سے نوازا تو ہم نے بھی ایسا کیا، یہاں تک کہ جب ہم اور وہ گھٹنوں گھٹنوں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہو گئے اور ہامری اور ان کی حیثیت ریس کے دو مدِّ مقابل گھوڑوں کی سی ہو گئی تو اب بنو عبدِ مناف کہتے ہیں کہ ہمارے اندر ایک نبی (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) ہے جس کےپاس آسمان سے وحی آتی ہے۔ بھلا بتائیے ہم اسے کب پا سکتے ہیں؟ خدا کی قسم! ہم اس شخص پر کبھی ایمان نہ لائیں گے، اور اس کی ہرگز تصدیق نہ کریں گے”۔ (ا) چنانچہ ابو جہل کہا کرتا تھا “اے محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) ہم تمہیں جھوٹا نہیں کہتے لیکن تم جو کچھ لے کر آئے ہو اس کی تکذیب کرتے ہیں” اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللّٰهِ يَجْحَدُونَ﴾(الأنعام 6: 33) "یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے، بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔" اس واقعے کی تفصیل گزر چکی ہے کہ ایک روز کفار نے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو تین بار لعن طعن کی اور تیسری دفعہ میں آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا کہ اے قریش کی جماعت! میں تمہارے پاس ذبح (کا حکم) لے کر آیا ہوں تو یہ بات ان پر اس طرح اثر کر گئی کہ جو شخص عداوت میں سب سے بڑھ کر تھا وہ بھی بہتر سے بہتر جو جملہ پا سکتا تھا اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو راضی کرنے کی کوشش میں لگ گیا۔ اسی طرح اس کی تفصیل بھی گزر چکی ہے کہ جب حالتِ سجدہ میں آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر اوجھڑی ڈالی گئی، اور آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے سر اٹھانے کے بعد اس حرکت کے کرنے والوں پر بد دعا کی تو ان کی ہنسی ہوا ہو گئی۔ اور ان کے اندر غم و قلق کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں یقین ہو گیا کہ اب ہم بچ نہیں سکتے۔[1] یہ واقعہ بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ابولہب کے بیٹے عُتَیبہ پر بددعا کی تو اسے یقین ہو گیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بد دعا کی زد سے بچ نہیں سکتا، چنانچہ اس نے ملک شام کے سفر میں شیر کو دیکھتے ہی کہا’’واللہ، محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) نے مکہ میں رہتے ہوئے مجھے قتل کر دیا۔‘‘[2] ابیّ بن خلف کا واقعہ ہے کہ وہ بار بار آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو قتل کی دھمکیاں دیا کرتا تھا۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے جوابًا فرمایا کہ (تم نہیں) بلکہ میں تمہیں قتل کروں گا، ان شاء اللہ۔ اس کے بعدجب آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے جنگ احد کے روز ابیّ کی گردن پر نیزہ مارا تو اگرچہ اس سے معمولی خراش آئی تھی لیکن ابیّ برابر یہی کہے جا رہا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) نے مجھ سے مکہ میں کہا تھا کہ میں تمہیں قتل کروں گا اس لیے اگر وہ مجھ پر تھوک ہی دیتا تو بھی میری جان نکل جاتی۔[3] (تفصیل آگے آ رہی ہے) اسی طرح ایک بار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے مکے میں امیّہ بن خلف سے کہہ دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان تمہیں قتل کر دیں گے تو اس سے امیّہ پر سخت گھبراہٹ طاری ہو گئی، جو مسلسل قائم رہی۔ چنانچہ اس نے عہد کر لیا کہ وہ مکے سے باہر ہی نہ نکلے گا اور جب جنگِ بدر کے موقع پر ابوجہل کے اصرار سے مجبور ہو کر نکلنا پڑا تو اس نے مکے کا سب سے تیز رو اونٹ خریدا تا کہ خطرے کی علامات ظاہر ہوتے ہیں چَمپَت ہو جائے۔ ادھر جنگ میں جانے پر آمادہ دیکھ کر اس کی بیوی نے بھی ٹوکا کہ "ابو صفوان! آپ کے یثربی بھائی نے جو کچھ کہا تھا اسے آپ بھول گئے؟"۔ ابو صفوان نے جواب دیا کہ نہیں، بلکہ میں خدا کی قسم ان کے ساتھ تھوڑی ہی دور جاؤں گا۔ [4] یہ تو آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دشمنوں کا حال تھا۔ باقی رہے آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اور رفقاء تو آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تو ان کے لیے دیدہ و دل اور جان و روح کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے دل کی گہرائیوں سے آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے لیے حبِّ صادق کے جذبے اس طرح ابلتے تھے جیسے نشیب کی طرف پانی بہتا ہے اور جان و دل اس طرح آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے جیسے لوہا مقناطین کی طرف کھنچتا ہے۔ فصورتہ ھیولٰی کل جسم و مقناطیس افئدۃ الرجال ’’آپ کی صورت ہر جسم کا ہیُولیٰ تھی اور آپ کا وجود ہر دل کے لیے مقناطیس۔‘‘ اس محبت و فداکاری اور جاں نثاری کا نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ کرام کو یہ گوارا نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ناخن میں خراش تک آ جائے یا آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاؤں میں کانٹا ہی چبھ جائے خواہ اس کےلیے گردنیں ہی کیوں نہ کوٹ دی جائیں۔ ایک روز ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بری طرح کچل دیا گیا اور انہیں سخت مار ماری گئی۔ عُتیبہ بن ربیعہ ان کے قریب آ کر انہیں دو پیوند لگے جوتوں سے مارنے لگا۔ چہرے کو خصوصیت سے نشانہ بنایا گیا۔ پھر پیٹ پر چڑھ گیا، کیفیت یہ تھی کہ چہرے اور ناک کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ پھر ان کے قبیلہ بنو تَیم کے لوگ انہیں ایک کپڑے میں لپیٹ کر گھر لے گئے۔ انہیں یقین تھا کہ اب یہ زندہ نہ بچیں گے لیکن دن کے خاتمے کے قریب ان کی زبان کھل گئی۔ (اور زبان کھلی تو یہ) بولے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کیا ہوئے؟ اس پر بنو تَیم نے انہیں سخت سست کہا۔ ملامت کی اور ان کی ماں ام الخیر سے یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ انہیں کچھ کھلا پلا دینا۔ جب وہ تنہا رہ گئیں تو انہوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کھانے پینے کے لیے اصرار کیا لیکن ابو بکر رضی اللہ عنہ یہی کہتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کیا ہوا؟ آخر کار ام الخیر نے کہا "مجھے تمہارے ساتھی کا حال معلوم نہیں"۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا "ام جمیل بنت خطاب کے پاس جاؤ اور اس سے دریافت کرو"۔ وہ ام جمیل کے پاس گئیں اور بولیں "ابوبکر رضی اللہ عنہ تم سے محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں"۔ ام جمیل نے کہا "میں نہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جانتی ہوں نہ محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کو۔ البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے ساتھ تمہارے صاحبزادے کے پاس چل سکتی ہوں۔" ام الخیر نے کہا بہترہے۔ اس کے بعد ام جمیل ان کے ہمراہ آئیں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ انتہائی خستہ حال پڑے تھے۔ پھر قریب ہوئیں تو چیخ پڑیں اور کہنے لگیں "جس قوم نے آپ کی یہ درگت بنائی ہے وہ یقینًا بدقماش اور کافر قوم ہے۔ مجھے امید ہے اللہ آپ کا بدلہ ان سے لے کر رہے گا"۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کیا ہوئے"؟ انہوں نے کہا "یہ آپ کی ماں سن رہی ہیں"۔ کہا "کوئی بات نہیں"۔ بولیں "آپ (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) صحیح سالم ہیں"۔ پوچھا "کہاں ہیں؟"۔ کہا "ابن ارقم کے گھر میں ہیں"۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا "اچھا تو پھر اللہ کے لیے مجھ پر عہد ہے کہ میں نہ کوئی کھانا کھاؤں گا یہ پانی پیوں گا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں"۔ اس کے بعد ام الخیر اور ام جمیل رکی رہیں۔ جب آمد و رفت بند ہو گئی اور سناٹا چھا گیا تو یہ دونوں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لے کر نکلیں۔ وہ ان پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور اس طرح انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا دیا۔[1] محبت و جاں سپاری کے کچھ اور بھی نادر واقعات ہم اپنی اس کتاب میں موقع بہ موقع نقل کریں گے۔ خصوصاً جنگ احد کے واقعات اور حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے حالات کے ضمن میں۔ 3۔احساسِ ذمہ داری: …صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جانتے تھے کہ یہ مشتِ خاک جسے انسان کہا جاتا ہے اس پر کتنی بھاری بھرکم اور زبردست ذمہ داریاں ہیں اور یہ کہ ان ذمہ داریوں سے کسی صورت میں گریز اور پہلو تہی نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس گریز کے جو نتائج ہوں گے وہ موجودہ ظلم وستم سے زیادہ خوفناک اور ہلاکت آفریں ہوں گے اور اس کے گریز بعد خود ان کو اور ساری انسانیت کو جو خسارہ لاحق ہوگا وہ اس قدر شدید ہوگا کہ اس ذمہ داری کے نتیجہ میں پیش آنے والی مشکلات اس خسارے کے مقابل کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ 4۔ آخرت پر ایمان: …جو مذکورہ احساسِ ذمہ داری کی تقویت کا باعث تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات کا غیر متزلزل یقین رکھتے تھے کہ انہیں رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ پھر ان کے چھوٹے بڑے اور معمولی و غیرمعمولی ہر طرح کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ اس کے بعد یا تو نعمتوں بھری دائمی جنت ہوگی یاعذاب سے بھڑکتی ہوئی جہنم۔ اس یقین کا نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی زندگی امید وبیم کی حالت میں گزارتے تھے۔ یعنی اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتے تھے اور اس کے عذاب کا خوف اور ان کی کیفیت وہی رہتی تھی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ : ﴿ وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ ﴾ (المؤمنون ۲۳: ۶۰) ’’وہ جو کچھ کرتے ہیں دل کے اس خوف کے ساتھ کرتے ہیں کہ انہیں اپنے رب کے پاس پلٹ کر جانا ہے۔‘‘ انہیں اس کا بھی یقین تھا کہ دنیا اپنی ساری نعمتوں اور مصیبتوں سمیت آخرت کے مقابل مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہیں اور یہ یقین اتنا پختہ تھا کہ اس کے سامنے دنیا کی ساری مشکلات ، مشقتیں اور تلخیاں ہیچ تھیں ، اس لیے وہ ان مشکلات اور تلخیوں کوکوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔ $ انہی پر خطر مشکل ترین اور تیرہ وتار حالات میں ایسی سورتیں اور آیتیں بھی نازل ہورہی تھیں جن میں بڑے ٹھوس اور پر کشش انداز سے اسلام کے بنیادی اصولوں پر دلائل وبراہین قائم کیے گئے تھے اور اس وقت اسلام کی دعوت انہی اصولوں کے گردش کر رہی تھی۔ ان آیتوں میں اہل اسلام کو ایسے بنیادی امور بتلائے جارہے تھے ، جن پر اللہ تعالیٰ نے عالم انسانیت کے سب سے باعظمت اور پر رونق معاشرے، یعنی اسلامی معاشرے کی تعمیر وتشکیل مقدر کر رکھی تھی۔ نیز ان آیات میں مسلمانوں کے جذبات واحساسات کو پامردی وثبات قدمی پر ابھارا جارہا تھا۔ اس کے لیے مثالیں دی جارہی تھیں اور اس کی حکمتیں بیان کی جاتی تھیں : ﴿ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللّٰهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيبٌ ﴾ (البقره ۲: ۲۱۴) ’’تم سمجھتے ہوکہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ سختیوں اور بد حالیوں سے دوچار ہوئے اور انہیں جھنجوڑ دیا گیا۔ یہاں تک کہ رسول اور جولوگ ان پر ایمان لائے تھے بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سنو ! اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔‘‘ ﴿ الم ، أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ، وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ ﴾ (العنكبوت۲۹: ۱ ،۲، ۳) ’’الٓمٓ۔کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے ، اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی، حالانکہ ان سے پہلے جولوگ تھے ہم نے ان کی آزمائش کی۔ لہٰذا (ان کے بارے میں بھی ) اللہ یہ ضرور معلوم کرے گا کہ کن لوگوں نے سچ کہا اور یہ بھی ضرور معلوم کرے گا کہ کون لوگ جھوٹے ہیں۔‘‘ اور انہی کے پہلو بہ پہلو ایسی آیات کا نزول بھی ہورہا تھا جن میں کفار ومعاندین کے اعتراضات کے دندان شکن جواب دیئے گئے تھے، ان کے لیے کوئی حیلہ باقی نہیں چھوڑا تھا اور انہیں بڑے واضح اور دوٹوک الفاظ میں بتلادیا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی گمراہی اورعناد پر مصررہے توا س کے نتائج کس قدر سنگین ہوں گے۔ اس کی دلیل میں گزشتہ قوموں کے ایسے واقعات اور تاریخی شواہد پیش کیے گئے تھے جن سے واضح ہوتا تھا کہ اللہ کی سنت اپنے اولیاء اور اعداء کے بارے میں کیا ہے۔ پھر اس ڈراوے کے پہلو بہ پہلو لطف وکرم کی باتیں بھی کہی جارہی تھیں اور افہام وتفہیم اور ارشاد ورہنمائی کا حق بھی ادا کیا جارہا تھا تاکہ باز آنے والے اپنی کھلی گمراہی سے باز آسکیں۔ درحقیقت قرآن مسلمانوں کو ایک دوسری ہی دنیا کی سیر کراتا تھا اور انہیں کائنات کے مشاہد ، ربوبیت کے جمال ، الوہیت کے کمال ، رحمت ورافت کے آثار اور لطف ورضا کے ایسے ایسے جلوے دکھاتا تھا کہ ان کے جذب وکشش کے آگے کوئی رکاوٹ برقرار ہی نہ رہ سکتی تھی۔ پھر انہیں آیات کی تہہ میں مسلمانوں سے ایسے ایسے خطاب بھی ہوتے تھے جن میں پروردگار کی طرف سے رحمت ورضوان اور دائمی نعمتوں سے بھری ہوئی جنت کی بشارت ہوتی تھی اور ظالم وسرکش دشمنوں اور کافروں کے ان حالات کی تصویر کشی ہوتی تھی کہ وہ رب العالمین کی عدالت میں فیصلے کے لیے کھڑے کیے جائیں گے۔ ان کی بھلائیاں اورنیکیاں ضبط کر لی جائیں گی اور انہیں چہروں کے بل گھسیٹ کر یہ کہتے ہوئے جہنم میں پھینک دیا جائے گا کہ لو جہنم کا لطف اٹھاؤ۔ % کامیابی کی بشارتیں:…ان ساری باتوں کے علاوہ مسلمانوں کو اپنی مظلومیت کے پہلے ہی دن سے ____بلکہ اس کے بھی پہلے سے____معلوم تھا کہ اسلام قبول کرنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ دائمی مصائب اور ہلاکت خیز یاں مول لے لی گئیں، بلکہ اسلامی دعوت روزِ اول سے جاہلیت جہلاء اور اس کے ظالمانہ نظام کے خاتمے کے عزائم رکھتی ہے اور اس دعوت کا ایک اہم نشانہ یہ بھی ہے کہ وہ روئے زمین پر اپنا اثر ونفوذ پھیلائے اور دنیا کے سیاسی موقف پر اس طرح غالب آجائے کہ انسانی جمعیت اور اقوامِ عالم کو اللہ کی مرضی کی طرف لے جاس کے اور انہیں بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کرسکے۔ قرآن مجید میں یہ بشارتیں ____کبھی اشارتاً اور کبھی صراحتاً…نازل ہوتی تھیں۔ چنانچہ ایک طرف حالات یہ تھے کہ مسلمانوں پر پوری روئے زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تنگ بنی ہوئی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ اب وہ پنپ نہ سکیں گے بلکہ ان کا مکمل صفایا کردیا جائے گا مگر دوسری طرف ان ہی حوصلہ شکن حالات میں ایسی آیات کا نزول بھی ہوتا رہتا تھا جن میں پچھلے انبیاء کے واقعات اور ان کی قوم کی تکذیب وکفر کی تفصیلات مذکور ہوتی تھیں اور ان آیات میں ان کا جو نقشہ کھینچا جاتا تھا وہ بعینہٖ وہی ہوتا تھا جو مکے کے مسلمانوں اور کافروں کے مابین درپیش تھا۔اس کے بعد یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ ان حالات کے نتیجے میں کس طرح کافروں اور ظالموں کو ہلاک کیا گیا اور اللہ کے نیک بندوں کو روئے زمین کا وارث بنایا گیا۔ اس طرح ان آیات میں واضح اشارہ ہوتا تھا کہ آگے چل کر اہل مکہ ناکام ونامراد رہیں گے اور مسلمان اور ان کی اسلامی دعوت کامیابی سے ہمکنار ہوگی، پھر انہی حالات وایام میں بعض ایسی بھی آیتیں نازل ہوجاتی تھیں جن میں صراحت کے ساتھ اہل ایمان کے غلبے کی بشارت موجود ہوتی تھی۔ مثلاً: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ ، إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ ، وَإِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ ، فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّى حِينٍ ، وَأَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ ، أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ، فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ (۳۷: ۱۷۱ ۔۱۷۷ ) ’’اپنے فرستادہ بندوں کے لیے ہمارا پہلے ہی یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ ان کی ضرور مدد کی جائے گی اور يقيناً ہمارا ہی لشکر غالب رہے گا۔ پس (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم)ایک وقت تک کے لیے تم ان سے رخ پھیر لو اور انہیں دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے۔ کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچارہے ہیں تو جب وہ ان کے صحن میں اتر پڑے گا تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوجائے گی۔‘‘ نیز ارشاد ہے : ﴿ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ (۵۴: ۴۵) ’’عنقریب اس جمعیت کو شکست دے دی جائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ ﴿ جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ﴾ (۳۸: ۱۱ ) ’’یہ جتھوں میں سے ایک معمولی سا جتھہ ہے جسے یہیں شکست دی جائے گی۔‘‘ مہاجرین حبشہ کے بارے میں ارشاد ہوا : ﴿ وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللّٰهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾(۱۶: ۴۱) ’’جن لوگوں نے مظلومیت کے بعد اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہم انہیں يقيناً دنیا میں بہترین ٹھکانہ عطا کریں گے اور آخرت کا اجر بہت ہی بڑا ہے اگر لوگ جانیں۔‘‘ اسی طرح کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ پوچھا تو جواب میں ضمناً یہ آیت بھی نازل ہوئی: ﴿ لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ﴾ (۱۲: ۷) ’’یوسف اور ان کے بھائیوں (کے واقعے ) میں پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ یعنی اہل مکہ جو آج حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ پوچھ رہے ہیں یہ خود بھی اسی طرح ناکام ہوں گے جس طرح یوسف علیہ السلام کے بھائی ناکام ہوئے تھے اور ان کی سپر اندازی کا وہی حال ہوگا جوا ن کے بھائیوں کا ہوا تھا۔ انہیں حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے واقعے سے عبرت پکڑنی چاہیے کہ ظالم کا حشر کیا ہوتا ہے۔ ایک جگہ پیغمبروں کا تذکرہ کر تے ہوئے ارشاد ہوا : ﴿ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّالِمِينَ ، وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِهِمْ ذَلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ﴾ (۱۴: ۱۳ ،۱۴) ’’کفار نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ ہم تمہیں اپنی زمین سے ضرور نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہماری ملت میں واپس آجاؤ۔ اس پر ان کے رب نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو يقيناً ہلاک کردیں گے اور تم کو ان کے بعد زمین میں ٹھہرائیں گے۔یہ (وعدہ) ہے اس شخص کے لیے جومیرے پاس کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعید سے ڈرے۔‘‘ اسی طرح جس وقت فارس وروم میں جنگ کے شعلے بھڑک رہے تھے اور کفار چاہتے تھے کہ فارسی غالب آجائیں کیونکہ فارسی مشرک تھے اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی غالب آجائیں۔ کیونکہ رومی بہر حال اللہ پر ، پیغمبروں پر ، وحی پر ، آسمانی کتابوں پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے کے دعویدار تھے لیکن غلبہ فارسیوں کو حاصل ہوتا جارہا تھا تو اس وقت اللہ نے یہ خوشخبری نازل فرمائی کہ چند بر س بعد رومی غالب آجائیں گے، لیکن اسی ایک بشارت پر اکتفاء نہ کی بلکہ اس ضمن میں یہ بشارت بھی نازل فرمائی کہ رومیوں کے غلبے کے وقت اللہ تعالیٰ مومنین کی بھی خاص مدد فرمائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے۔ چنانچہ ارشاد ہے : ﴿ فِي بِضْعِ سِنِينَ للّٰهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ، بِنَصْرِ اللّٰهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾ (۳۰: ۴ ،۵) ’’یعنی اس دن اہل ایمان بھی اللہ کی (ایک خاص ) مدد سے خوش ہوجائیں گے۔‘‘ (اور آگے چل کر اللہ کی یہ مدد جنگ بدر کے اندر حاصل ہونے والی عظیم کامیابی اور فتح کی شکل میں نازل ہوئی ) قرآن کے علاوہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسلمانوں کو وقتاً فوقتاً اس طرح کی خوشخبری سنایا کرتے تھے۔ چنانچہ موسم حج میں آپ عکاظ ، مجنہ اور ذو المجاز کے بازاروں میں لوگوں کے اندر تبلیغ کے لیے تشریف لے جاتے توصرف جنت ہی کی بشارت نہیں دیتے تھے، بلکہ دوٹوک لفظوں میں اس کا بھی اعلان فرماتے تھے : (( یا أیہا الناس قولو لا الہ الا اللّٰه تفلحوا وتملکوا بہا العرب وتدین لکم بہا العجم فاذا متم کنتم ملوکاً فی الجنۃ)) [1] ’’لوگو! لاالٰہ الا اللہ کہو کامیاب رہو گے اور اس کی بدولت عرب کے بادشاہ بن جاؤ گے اور اس کی وجہ سے عجم بھی تمہارے زیر نگیں آجائے گا۔ پھر جب تم وفات پاؤ گے تو جنت کے اندر بادشاہ رہوگے۔‘‘ یہ واقعہ پچھلے صفحات میں گزرچکا ہے کہ جب عتبہ بن ربیعہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو متاعِ دنیا کی پیشکش کر کے سودے بازی کرنی چاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں حمٓ تنزیل السجدہ کی آیات پڑھ کر سنائیں تو عتبہ کو یہ توقع بندھ گئی کہ انجام کار آپ غالب رہیں گے۔ اسی طرح ابوطالب کے پاس آنے والے قریش کے آخری وفد سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو گفتگو ہوئی تھی اس کی بھی تفصیلات گزرچکی ہیں۔ اس موقعے پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری صراحت کے ساتھ فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے صرف ایک بات چاہتے ہیں جسے وہ مان لیں تو عرب ان کا تابع فرمان بن جائے گا ، اور عجم پر ان کی بادشاہت قائم ہوجائے۔ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ایک بار میں خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا، آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو تکیہ بنائے تشریف فرما تھے۔ اس وقت ہم مشرکین کے ہاتھوں سختی سے دوچار تھے۔ میں نے کہا : کیوں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا فرمائیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جولوگ تم سے پہلے تھے، ان کی ہڈیوں تک گوشت اور اعصاب میں لوہے کی کنگھیاں کردی جاتی تھی لیکن یہ سختی بھی انہیں دین سے باز نہ رکھتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس امر کو، یعنی دین کو مکمل کرکے رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضرموت تک جائے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا۔ البتہ بکری پر بھیڑ یے کا خوف ہوگا۔[1]ایک روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ لیکن تم لوگ جلدی کررہے ہو۔ [2]یاد رہے کہ یہ بشارتیں کچھ ڈھکی چھپی نہ تھیں، بلکہ معروف ومشہور تھیں اور مسلمانوں ہی کی طرح کفار بھی ان سے واقف تھے۔ چنانچہ جب اسود بن مطلب اور اس کے رفقاء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھتے تو طعنہ زنی کرتے ہوئے آپس میں کہتے کہ لیجئے !آپ کے پاس روئے زمین کے بادشاہ آگئے ہیں۔ یہ جلد ہی شاہانِ قیصر وکسریٰ کو مغلوب کرلیں گے۔ اس کے بعد وہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے۔[3] بہر حال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف اس وقت ظلم وستم اور مصائب وآلام کا جو ہمہ گیر طوفان بر پاتھا اس کی حیثیت حصولِ جنت کی ان یقینی امیدوں اور تابناک وپر وقار مستقبل کی ان بشارتوں کے مقابل اس بادل سے زیادہ نہ تھی جو ہوا کے جھٹکے سے بکھر کر تحلیل ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل ایمان کوایمانی مرغوبات کے ذریعے مسلسل روحانی غذا فراہم کررہے تھے۔ تعلیم کتاب و حکمت کے ذریعے ان کے نفوس کا تزکیہ فرمارہے تھے۔ نہایت دقیق اور گہری تربیت دے رہے تھے اور روح کی بلندی ، قلب کی صفائی ، اخلاق کی پاکیزگی، مادیات کے غلبے سے آزادی ، شہوات کی مقاومت اور رب السموات والارض کی کشش کے مقامات کی جانب ان کے نفوسِ قدسیہ کی حدی خوانی فرمارہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دلوں کی بجھتی ہوئی چنگاری کو بھڑکتے ہوئے شعلوں میں تبدیل کردیتے تھے اور انہیں تاریکیوں سے نکال کر نور زار ہدایت میں پہنچارہے تھے۔ انہیں اذیتوں پر صبر کی تلقین فرماتے تھے اور شریفانہ درگزر اور قہرِ نفس کی ہدایت دیتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ان کی دینی پختگی فزوں تر ہوتی گئی اور وہ شہوات سے کنارہ کشی ، رضائے الٰہی کی راہ میں جاں سپاری ، جنت کے شوق ، علم کی حرص، دین کی سمجھ ، نفس کے محاسبے ، جذبات کو دبانے ، رجحا نات کو موڑنے ، ہیجانات کی لہروں پر قابو پانے اور صبر وسکون اور عزّووقار کی پابندی کرنے میں انسانیت کا نادرہ ٔ روز گار نمونہ بن گئے۔