الرحیق المختوم

تیسرا مرحلہ : بیرون مکہ دعوتِ اسلام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں شوال ۱۰ نبوت[1] (اواخر مئی یا اوائل جون ۶۱۹ ء ) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئے۔ یہ مکہ سے ایک سو تیس کلو میٹر سے زیادہ دور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مسافت آتے جاتے پیدل طے فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ تھے۔ راستے میں جس قبیلے سے گزر ہوتا اسے اسلام کی دعوت دیتے لیکن کسی نے بھی یہ دعوت قبول نہ کی۔ جب طائف پہنچے تو قبیلہ ثقیف کے تین سرداروں کے پاس تشریف لے گئے جو آپس میں بھائی تھے اور جن کے نام یہ تھے۔ عبدیالیل ، مسعود اور حبیب ، ان تینوں کے والد کا نام عمرو بن عُمیر ثَقَفی تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس بیٹھنے کے بعد انہیں اللہ کی اطاعت اور اسلام کی مدد کی دعوت دی۔ جواب میں ایک نے کہا کہ وہ کعبے کا پردہ پھاڑے اگر اللہ نے تمہیں رسول بنایا ہو۔ [2]دوسرے نے کہا : کیا اللہ کو تمہارے علاوہ کوئی اور نہ ملا ؟ تیسرے نے کہا : میں تم سے ہرگز بات نہ کروں گا۔ اگرتم واقعی پیغمبر ہو تو تمہاری بات رد کرنا میرے لیے انتہائی خطر ناک ہے اور اگر تم نے اللہ پر جھوٹ گھڑ رکھا ہے تو پھر مجھے تم سے بات کرنی ہی نہیں چاہیے۔ یہ جواب سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے ، اور صرف اتنا فرمایا : تم لوگوں نے جوکچھ کیا کیا ، بہرحال اسے پس پردہ ہی رکھنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں دس دن قیام فرمایا۔اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ایک ایک سردار کے پاس تشریف لے گئے اور ہر ایک سے گفتگو کی لیکن سب کا ایک ہی جواب تھا کہ ہمارے شہر سے نکل جاؤ۔ بلکہ انہوں نے اپنے اوباشوں کو شہ دے دی۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کا قصد فرمایا تو یہ اوباش گالیاں دیتے ، تالیاں پیٹتے اور شور مچاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگ گئے ، اور دیکھتے دیکھتے اتنی بھیڑ جمع ہوگئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کے دونوں جانب لائن لگ گئی۔ پھر گالیوں اور بد زبانیوں کے ساتھ ساتھ پتھر بھی چلنے لگے۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑی پر اتنے زخم آئے کہ دونوں جوتے خون میں تر بتر ہوگئے۔ ادھر حضرت زید رضی اللہ عنہ بن حارثہ ڈھال بن کرچلتے ہوئے پتھروں کو روک رہے تھے۔ جس سے ان کے سر میں کئی جگہ چوٹ آئی۔ بدمعاشوں نے یہ سلسلہ برابر جاری رکھا یہاں تک کہ آپ کو عتبہ اور شیبہ ابنائے ربیعہ کے ایک باغ میں پناہ لینے پر مجبور کردیا۔ یہ باغ طائف سے تین میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پناہ لی تو بھیڑ واپس چلی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار سے ٹیک لگا کر انگور کے بیل کے سائے میں بیٹھ گئے۔ قدرے اطمینان ہوا تو دعا فرمائی جو دعائے مستضعفین کے نام سے مشہور ہے۔ اس دعا کے ایک ایک فقرے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ طائف میں اس بدسلوکی سے دوچار ہونے کے بعد اور کسی ایک بھی شخص کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر دل فگا رتھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احساسات پر حزن والم اور غم وافسوس کا کس قدر غلبہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( اللّٰہم إلیک أشکو ضعف قوتی وقلۃ حیلتی وہوانی علی الناس یا أرحم الراحمین أنت رب المستضعفین وأنت ربی ٗ إلی من تکلنی؟ إلی بعید یتجہمني ؟ أم إلی عدو ملکتہ أمری۔ إن لم یکن بک علی غضب فلا أبالی ٗ ولکن عافیتک ہی أوسع لی ٗ أعوذبنور وجہک الذی أشرقت لہ الظلمات وصلح علیہ أمر الدنیا والآخرۃ من ان تنزل بی غضبک أو یحل علی سخطک ٗ لک العتبی حتی ترضی ٗ ولا حول ولا قوۃ إلا بک (( ’’بار الہا ! میں تجھ ہی سے اپنی کمزوری وبے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ کرتا ہوں۔ یا ارحم الراحمین۔ تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا بھی رب ہے۔ تو مجھے کس کے حوالے کررہا ہے ؟ کیا کسی بیگانے کے جومیرے ساتھ تندی سے پیش آئے ؟ یا کسی دشمن کے جس کو تو نے میرے معاملے کا مالک بنادیا ہے ؟ اگر مجھ پر تیرا غضب نہیں ہے تو مجھے کوئی پروا نہیں ، لیکن تیری عافیت میرے لیے زیادہ کشادہ ہے۔ میں تیر ے چہرے کے اس نور کی پناہ چاہتا ہوں جس سے تاریکیاں روشن ہوگئیں اور جس پردنیا و آخرت کے معاملات درست ہوئے کہ تو مجھ پر اپنا غضب نازل کرے ، یا تیرا عتاب مجھ پر وارد ہو۔ تیری ہی رضا مطلوب ہے یہاں تک کہ تو خوش ہوجائے اور تیرے بغیر کوئی زور اور طاقت نہیں۔‘‘ ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابنائے ربیعہ نے اس حالتِ زار میں دیکھا تو ان کے جذبۂ قرابت میں حرکت پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنے ایک عیسائی غلام کو جس کا نام عداس تھا بلا کر کہا کہ اس انگور سے ایک گچھا لو اور اس شخص کو دے آؤ۔ جب اس نے انگور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ کہہ کر ہاتھ بڑھایا اور کھانا شروع کیا۔ عداس نے کہا: یہ جملہ توا س علاقے کے لوگ نہیں بولتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اور تمہارا دین کیا ہے ؟ اس نے کہا :میں عیسائی ہوں اور نینویٰ کا باشندہ ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ! تم مرد صالح یونس بن متیٰ کی بستی کے رہنے والے ہو۔ اس نے کہا: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)یونس بن متٰی کو کیسے جانتے ہیں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے بھائی تھے، وہ نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں۔ یہ سن کر عداس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک پڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ہاتھ پاؤں کو بوسہ دیا۔ یہ دیکھ کر ربیعہ کے دونوں بیٹوں نے آپس میں کہا: لو ! اس شخص نے ہمارے غلام کو بگاڑ دیا۔ اس کے بعد عداس واپس گیا تودونوں نے اس سے کہا: ا جی ! یہ کیا معاملہ تھا ؟ اس نے کہا: میرے آقا ! روئے زمین پر اس شخص سے بہتر کوئی اور نہیں۔ اس نے مجھے ایک ایسی بات بتائی ہے جسے نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان دونوں نے کہا : دیکھو عداس کہیں یہ شخص تمہیں تمہارے دین سے پھیر نہ دے، کیونکہ تمہارا دین اس کے دین سے بہتر ہے۔ قدرے ٹھہر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ سے نکلے تو مکے کی راہ پر چل پڑے۔ غم والم کی شدت سے طبیعت نڈھال اور دل پاش پاش تھا۔ قرنِ منازل پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے۔ ان کے ساتھ پہاڑوں کا فرشتہ بھی تھا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گزارش کر نے آیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو وہ اہل مکہ کو دوپہاڑوں کے درمیان پیس ڈالے۔ اس واقعے کی تفصیل صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، ان کا بیان ہے کہ انہوں نے ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسا دن بھی آیا ہے جو احد کے دن سے زیادہ سنگین رہا ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! تمہاری قوم سے مجھے جن جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا ان میں سب سے سنگین مصیبت وہ تھی جس سے میں گھاٹی کے دن دوچار ہوا ، جب میں نے اپنے آپ کو عبدیالیل بن عبد ِ کلال کے صاحبزادے پر پیش کیا، مگر اس نے میری بات منظور نہ کی تو میں غم والم سے نڈھال اپنے رخ پر چل پڑا اور مجھے قرن ثعالب پہنچ کر ہی افاقہ ہوا۔ وہاں میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بادل کا ایک ٹکڑا مجھ پر سایہ فگن ہے۔ میں نے بغور دیکھا تو اس میں حضرت جبریل علیہ السلام تھے۔ انہوں نے مجھے پکارکر کہا : آپ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی قوم نے آپ سے جو بات کہی اللہ نے اسے سن لیا ہے۔ اب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں اسے جو حکم چاہیں دیں۔ اس کے بعد پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے آواز دی اور سلا م کر نے کے بعد کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! بات یہی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)جو چاہیں …اگر چاہیں کہ میں انہیں دوپہاڑوں[1] کے درمیان کچل دوں____تو ایسا ہی ہوگا____نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (نہیں) بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ عزوجل ان کی پشت سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کر ے گی اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے گی۔ [2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب میں آپ کی یگانۂ روز گا ر شخصیت اور ناقابلِ ادراک گہرائی رکھنے والے اخلاق عظیمہ کے جلوے دیکھے جاسکتے ہیں۔ بہر حال اب سات آسمانوں کے اوپر سے آنے والی اس غیبی مدد کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل مطمئن ہوگیا اور غم والم کے بادل چھٹ گئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے کی راہ پر مزید پیش قدمی فرمائی اور وادی ٔ نخلہ میں جافروکش ہوئے۔ یہاں دوجگہیں قیام کے لائق ہیں ایک السیل الکبیر اور دوسرے زیمہ۔ کیونکہ دونوں ہی جگہ پانی اور شادابی موجود ہے ، لیکن کسی ماخذ سے یہ پتہ نہیں چل سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کس جگہ قیام فرمایا تھا۔ وادیٔ نخلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام چند دن رہا۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنوں کی ایک جماعت بھیجی[3]جس کا ذکر قرآن مجید میں دوجگہ آیا ہے۔ ایک سورۃ الاحقاف میں ، دوسرے سورہ ٔ جن میں ، سورۃ الاحقاف کی آیات یہ ہیں : ﴿ وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنْصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِمْ مُنْذِرِينَ ، قَالُوا يَاقَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَى طَرِيقٍ مُسْتَقِيمٍ ، يَاقَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللّٰهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴾ (۴۶: ۲۹ ۔۳۱ ) ’’ اور جب کہ ہم نے آپ کی طرف جنوں کے ایک گروہ کو پھیر اکہ وہ قرآن سنیں تو جب وہ( تلاوت) قرآن کی جگہ پہنچے توانہوں نے آپس میں کہا: چپ ہوجاؤ۔ پھر جب اس کی تلاوت پوری کی جاچکی تووہ اپنی قوم کی طرف عذاب الٰہی سے ڈرانے والے بن کر پلٹے۔ انہوں نے کہا: اے ہماری قوم ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے۔ اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے حق اور راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔اے ہماری قوم ! اللہ کے داعی کی بات مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے بچائے گا۔‘‘ سورۂ جن کی یہ آیات ہیں : ﴿ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ، يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا ﴾(۷۲: ۱، ۲) ’’آپ کہہ دیں : میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا اور باہم کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔ جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو ہرگز شریک نہیں کر سکتے۔‘‘ (پندرہویں آیت تک ) یہ آیات جو اس واقعے کے بیان کے سلسلے میں نازل ہوئیں ان کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائً جنوں کی اس جماعت کی آمد کا علم نہ ہوسکا تھا بلکہ جب ان آیات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی تب آپ واقف ہوسکے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کی یہ آمد پہلی بار ہوئی تھی اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے بعد ان کی آمد ورفت ہوتی رہی۔ جنوں کی آمد اور قبولِ اسلام کا واقعہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے دوسری مدد تھی۔ جو اس نے اپنے غیب ِ مکنون کے خزانے سے اپنے اس لشکر کے ذریعے فرمائی تھی جس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ، پھر اس واقعے کے تعلق سے جو آیات نازل ہوئیں ان کے بیچ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی کامیابی کی بشارتیں بھی ہیں اور اس بات کی وضاحت بھی کہ کائنات کی کوئی بھی طاقت اس دعوت کی کامیابی کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتی، چنانچہ ارشاد ہے : ﴿ وَمَنْ لَا يُجِبْ دَاعِيَ اللّٰهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءُ أُولَئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ﴾ (۴۶: ۳۲) ’’جو اللہ کے داعی کی دعوت قبول نہ کرے وہ زمین میں (اللہ کو ) بے بس نہیں کرسکتا ، اور اللہ کے سوا اس کا کوئی کار ساز ہے بھی نہیں اور ایسے لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔‘‘ ﴿ وَأَنَّا ظَنَنَّا أَنْ لَنْ نُعْجِزَ اللّٰهَ فِي الْأَرْضِ وَلَنْ نُعْجِزَهُ هَرَبًا ﴾ (۷۲ :۱۲) ’’ہماری سمجھ میں آگیا ہے کہ ہم اللہ کو زمین میں بے بس نہیں کرسکتے اور نہ ہم بھاگ کرہی اسے (پکڑنے سے) عاجز کرسکتے ہیں۔‘‘ اس نصرت اور ان بشارتوں کے سامنے غم والم اور حزن ومایوسی کے وہ سارے بادل چھٹ گئے جو طائف سے نکلتے وقت گالیاں اور تالیاں سننے اور پتھر کھانے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چھائے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عزم مصمم فرما لیا کہ اب مکہ پلٹنا ہے اور نئے سرے سے دعوتِ اسلام اور تبلیغ ِ رسالت کے کام میں چستی اور گرمجوشی کے ساتھ لگ جانا ہے۔ یہی موقع تھا جب حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ مکہ کیسے جائیں گے جبکہ وہاں کے باشندوں، یعنی قریش نے آپ کو نکال دیا ہے ؟ اور جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے زید ! تم جو حالت دیکھ رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے کشادگی اور نجات کی کوئی راہ ضرور بنائے گا۔ اللہ يقيناً اپنے دین کی مدد کر ے گا اور اپنے نبی کو غالب فرمائے گا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے اور مکے کے قریب پہنچ کر کوہِ حَرا کے دامن میں ٹھہر گئے، پھر خزاعہ کے ایک آدمی کے ذریعے اخنس بن شریق کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دے دے۔ مگر اخنس نے یہ کہہ کر معذرت کردی کہ میں حلیف ہوں اور حلیف پناہ دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہل بن عمرو کے پاس یہی پیغام بھیجا، مگر اس نے بھی یہ کہہ کر معذرت کردی کہ بنی عامر کی دی ہوئی پناہ بنوکعب پر لاگو نہیں ہوتی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطعم بن عدی کے پاس پیغام بھیجا۔ مطعم نے کہا :ہاں اور پھر ہتھیار پہن کر اپنے بیٹوں اور قوم کے لوگوں کو بلایا اور کہا تم لوگ ہتھیار باندھ کر خانہ کعبہ کے گوشوں پر جمع ہوجا ؤ۔ کیونکہ میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم)کو پناہ دے دی ہے، اس کے بعدمطعم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ مکے کے اندر آجاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیغام پانے کے بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ بن حارثہ کو ہمراہ لے کر مکہ تشریف لائے ، اور مسجد حرام میں داخل ہوگئے۔ اس کے بعد مطعم بن عدی نے اپنی سواری پر کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ قریش کے لوگو ! میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کو پناہ دے دی ہے۔ اب اسے کوئی نہ چھیڑے۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے حجرِ اسود کے پاس پہنچے اسے چوما، پھر دورکعت نماز پڑھی ، اور اپنے گھر کو پلٹ آئے ، اس دوران مطعم بن عدی اور ان کے لڑکوں نے ہتھیار بند ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد حلقہ باندھے رکھاتا آنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مکان کے اندر تشریف لے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر ابو جہل نے مطعم سے پوچھا تھا کہ تم نے پناہ دی ہے یاپیروکار ____مسلمان ____بن گئے ہو؟ اور مطعم نے جواب دیا تھا کہ پناہ دی ہے اور اس جواب کو سن کر ابوجہل نے کہا تھا کہ جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی۔ [1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطعم بن عدی کے اس حسنِ سلوک کو کبھی فراموش نہ فرمایا، چنانچہ بدر میں جب کفار مکہ کی ایک بڑی تعداد قید ہوکر آئی اور بعض قیدیوں کی رہائی کے لیے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((لوکان المطعم بن عدي حیاً ثم کلمني فی ھؤلاء النتنی لترکتھم لہ)) [2] ’’اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا ، پھر مجھ سے ان بدبودار لوگوں کے بارے میں گفتگو کرتا تو میں اس کی خاطر ان سب کو چھوڑ دیتا۔‘‘