الرحیق المختوم
قبائل اور افراد کو اسلام کی دعوت
ذی قعدہ ۱۰ نبوت ( اواخرجون یا اوائل جولائی ۶۱۹ ء ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے مکہ تشریف لائے ، اور یہاں افراد اور قبائل کو پھر سے اسلام کی دعوت دینی شروع کی۔ چونکہ موسم حج قریب تھا اس لیے فریضۂ حج کی ادائیگی ، اپنے منافع اور اللہ کی یاد کے لیے دور ونزدیک ہر جگہ سے پیدل اور سواروں کی آمد شروع ہوچکی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعے کو غنیمت سمجھا اور ایک ایک قبیلے کے پاس جاکر اسے اسلام کی دعوت دی، جیسا کہ نبوت کے چوتھے سال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔
وہ قبائل جنہیں اسلام کی دعوت دی گئی:
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جن قبائل کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دیتے ہوئے اپنے آپ کو ان پر پیش کیا ان میں حسب ذیل قبیلوں کے نام ہمیں بتائے گئے ہیں:
بنو عامر بن صعصعہ، محارب بن خصفہ، فزارہ، غسان، مرہ، حنیفہ ، سلیم ، عبس ، بنو نضر ، بنوالبکاء ، کندہ ، کلب ، حارث بن کعب ، عذرہ ، حضارمہ …لیکن ان میں سے کسی نے بھی اسلام قبول نہ کیا۔ [1]
واضح رہے کہ امام زہری کے ذکر کردہ ان سارے قبائل پر ایک ہی سال یا ایک ہی موسم حج میں اسلام پیش نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ نبوت کے چوتھے سال سے ہجرت سے پہلے کے آخری موسم حج تک دس سالہ مدت کے دوران پیش کیا گیا تھا۔ [2]
ابن اسحاق نے بعض قبائل پر اسلا م کی پیشی اور ان کے جواب کی کیفیت بھی ذکر کی ہے۔ ذیل میں مختصرا ان کا بیان نقل کیا جارہا ہے۔
1۔ بنو کلب:____نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس قبیلے کی ایک شاخ بنو عبد اللہ کے پاس تشریف لے گئے، انہیں اللہ کی طرف بلایا ، اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا۔ باتوں باتوں میں یہ بھی فرمایاکہ اے بنو عبد اللہ ! اللہ نے تمہارے جد اعلیٰ کا نام بہت اچھا رکھا تھا لیکن اس قبیلے نے آپ کی دعوت قبول نہ کی۔
2۔ بنو حنیفہ:____آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ڈیرے پر تشریف لے گئے، انہیں اللہ کی طرف بلایا اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا لیکن ان کے جیسا برا جواب اہلِ عرب میں سے کسی نے بھی نہ دیا۔
3۔ عامر بن صعصعہ :____انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی طرف دعوت دی ، اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا۔ جواب میں ان کے ایک آدمی بحیرہ بن فراس نے کہا : اللہ کی قسم! اگر میں قریش کے اس جوان کو لے لوں تو اس کے ذریعے پورے عرب کو کھا جاؤں گا۔ پھر اس نے دریافت کیا کہ اچھا یہ بتایئے اگر ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)سے آپ کے اس دین پر بیعت کرلیں، پھر اللہ آپ کو مخالفین غلبہ عطا فرمائے تو کیا آپ کے بعد زمام کار ہمارے ہاتھ میں ہوگی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمام کار تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جہاں چاہے گا رکھے گا۔ اس پر اس شخص نے کہا : خوب ! آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)کی حفاظت میں ہمارا سینہ اہل عرب کے نشانے پر رہے ، لیکن جب اللہ آپ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو غلبہ عطا فرمائے تو زمام کار کسی اور کے ہاتھ میں ہو؟ ہمیں آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)کے دین کی ضرورت نہیں۔ غرض انہوں نے انکار کر دیا۔
اس کے بعد جب قبیلہ بنو عامر اپنے علاقے میں واپس گیا تو اپنے ایک بوڑھے آدمی کو…جو کبر سنی کے باعث حج میں شریک نہ ہوسکا تھا…سارا ماجرا سنایا اور بتایا کہ ہمارے پاس قبیلۂ قریش کے خاندان بنوعبد المطلب کا ایک جوان آیا تھا جس کا خیال تھا کہ وہ نبی ہے۔ اس نے ہمیں دعوت دی کہ ہم اس کی حفاظت کریں، اس کا ساتھ دیں اور اپنے علاقے میں لے آئیں۔ یہ سن کر اس بڈھے نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا اور بولا : اے بنو عامر ! کیا اب اس کی تلافی کی کوئی سبیل ہے ؟ اور کیا اس ازدست رفتہ کو ڈھونڈھا جاسکتا ہے ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں فلاں کی جان ہے! کسی اسماعیلی نے کبھی اس (نبوت ) کا جھوٹا دعویٰ نہیں کیا ۔
یہ يقيناً حق ہے، آخر تمہاری عقل کہاں چلی گئی تھی ؟[1]