Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 11. Hud · Ayah 42

  1. وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ﴿42﴾

    1. وَهِىَاور وہ
    2. تَجْرِيْچلی
    3. بِهِمْان کو لے کر
    4. فِيْ مَوْجٍلہروں میں
    5. كَالْجِبَالِپہاڑ جیسی
    6. وَنَادٰياور پکارا
    7. نُوْحُنوح
    8. ابْنَهٗاپنا بیٹا
    9. وَكَانَاور تھا
    10. فِيْ مَعْزِلٍکنارے میں
    11. يّٰبُنَيَّاے میرے بیٹے
    12. ارْكَبْسوار ہوجا
    13. مَّعَنَاہمارے ساتھ
    14. وَلَا تَكُنْاور نہ رہو
    15. مَّعَ الْكٰفِرِيْنَکافروں کے ساتھ
Translation · Aasan Quran
اور وہ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان چلی جاتی تھی۔ اور نوح نے اپنے اس بیٹے کو جو سب سے الگ تھا، آواز دی کہ : بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ، اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔ (23)
Tafseer · Aasan Quran
23: حضرت نوح ؑ کے اور بیٹے تو کشتی میں سوار ہوگئے تھے، مگر ایک بیٹا جس کا نام کنعان بتایا جاتا ہے، کافر تھا، اور کافروں ہی کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا، وہ کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ حضرت نوح ؑ کو یا تو علم نہیں تھا کہ وہ کافر ہے، اور وہ محض یہ سمجھتے تھے کہ اس کی صحبت خراب ہے، یا کافر ہونے کا علم تھا، مگر یہ چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہوجائے، اس لیے پہلے اسے کشتی میں سوار ہونے کی اجازت مل جائے، یعنی اگر کافر ہے تو اسے ایمان کی توفیق ہوجائے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ حضرت نوح ؑ کے سارے گھر والے جو صاحب ایمان ہوں گے، انہیں عذاب سے نجات ملے گی، اس لیے حضرت نوح ؑ نے اس وعدے کا حوالہ بھی دیا۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ وہ کافر ہے اور اس کے مقدر میں ایمان نہیں ہے، اس لیے وہ درحقیقت تمہارے گھر والوں میں شامل ہی نہیں ہے۔ یہ بات تمہارے علم میں نہیں تھی کہ اس کے مقدر میں ایمان نہیں، اس لیے تم نے اس کی نجات یا ایمان کی دعا مانگی۔ اگلی آیت میں جو ارشاد ہے کہ : مجھ سے ایسی چیز نہ مانگو جس کی تمہیں ٰخبر نہیں۔ اس کا یہی مطلب ہے۔