Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 27

  1. وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿27﴾

    1. وَاِنْاور اگر
    2. كَانَہے
    3. قَمِيْصُهٗاس کی قمیص
    4. قُدَّپھٹی ہوئی
    5. مِنْ دُبُرٍپیچھے سے
    6. فَكَذَبَتْتو وہ جھوٹی
    7. وَهُوَاور وہ
    8. مِنَسے
    9. الصّٰدِقِيْنَسچے
Translation · Aasan Quran
اور اگر ان کی قمیص پیچھے کی طرف سے پھٹی ہے تو عورت جھوٹ بولتی ہے، اور یہ سچے ہیں۔ (18)
Tafseer · Aasan Quran
18: اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی عزیز مصر پر واضح کرنے کے لیے یہ انتظام فرمایا کہ خود زلیخا کے خاندان کے ایک شخص نے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ایسی علامت بتائی جس کی معقولیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ اگر حضرت یوسف ؑ کی قمیص سامنے کی طرف سے پھٹی ہو تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ عورت کی طرف بڑھنا چاہتے تھے۔ عورت نے اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ بڑھایا، اور اس کشمکش میں ان کی قمیص پھٹ گئی۔ لیکن اگر وہ پیچھے کی طرف سے پھٹی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آگے بھاگ رہے تھے، زلیخا ان کا پیچھا کر کے انہیں روکنا چاہتی تھی اور انہیں اپنی طرف کھینچنے کی وجہ سے قمیص پھٹ گئی۔ اول تو یہ بات ہی نہایت معقول تھی دوسرے بعض مستند احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گواہی زلیخا کے خاندان کے ایک چھوٹے سے بچے نے دی تھی جو ابھی بولنے کے قابل نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی ثابت کرنے کے لیے اسے بولنے کی طاقت اسی طرح عطا فرما دی تھی جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کو عطا فرمائی تھی۔ غرض اس ناقابل انکار ثبوت کے بعد عزیز مصر کو یقین ہوگیا کہ سارا قصور اس کی بیوی کا ہے اور حضرت یوسف ؑ بالکل بےگناہ ہیں۔