Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 42

  1. وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ع﴿42﴾

    1. وَقَالَاور کہا
    2. لِلَّذِيْاس سے جس
    3. ظَنَّاس نے گمان کیا
    4. اَنَّهٗکہ بیشک وہ
    5. نَاجٍبچے گا وہ
    6. مِّنْهُمَاان دونوں سے
    7. اذْكُرْنِيْمیرا ذکر کرنا
    8. عِنْدَپاس
    9. رَبِّكَاپنا مالک
    10. فَاَنْسٰىهُپس اس کو بھلا دیا
    11. الشَّيْطٰنُشیطان
    12. ذِكْرَ رَبِّهٖاپنے مالک سے ذکر کرنا
    13. فَلَبِثَتو رہا
    14. فِي السِّجْنِقید میں
    15. بِضْعَ سِنِيْنَچند برس
Translation · Aasan Quran
اور ان دونوں میں سے جس کے بارے میں ان کا گمان تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا، اس سے یوسف نے کہا کہ : اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کردینا۔ (27) پھر ہوا یہ کہ شیطان نے اس کو یہ بات بھلا دی کہ وہ اپنے آقا سے یوسف کا تذکرہ کرتا۔ چنانچہ وہ کئی برس قید خانے میں رہے۔
Tafseer · Aasan Quran
27: آقا سے مراد بادشاہ ہے۔ حضرت یوسف ؑ نے جس قیدی کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ وہ چھوٹ جائے گا اور واپس جا کر حسب معمول اپنے آقا کو شراب پلائے گا اس سے آپ نے یہ بات فرمائی کہ تم اپنے آقا یعنی بادشاہ سے میرا تذکلرہ کرنا کہ ایک شخص بےگناہ جیل میں پڑا ہوا ہے۔ اس کے معاملے پر آپ کو توجہ کرنی چاہیے مگر جیسا کہ آگے بیان فرمایا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ شخص بادشاہ سے یہ بات کہنا بھول گیا جس کی وجہ سے انہیں کئی سال اور جیل میں رہنا پڑا۔