Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 12. Yusuf · Ayah 70

  1. فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ﴿70﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. جَهَّزَهُمْانہیں تیار کردیا
    3. بِجَهَازِهِمْان کا سامان
    4. جَعَلَرکھ دیا
    5. السِّقَايَةَپینے کا پیالہ
    6. فِيْمیں
    7. رَحْلِسامان
    8. اَخِيْهِاپنا بھائی
    9. ثُمَّپھر
    10. اَذَّنَاعلان کیا
    11. مُؤَذِّنٌمنادی کرنیوالا
    12. اَيَّتُهَا الْعِيْرُاے قافلے والو
    13. اِنَّكُمْبیشک تم
    14. لَسٰرِقُوْنَالبتہ چور ہو
Translation · Aasan Quran
پھر جب یوسف نے ان کا سامان تیار کردیا تو پانی پینے کا پیالہ اپنے (سگے) بھائی کے کجاوے میں رکھوا دیا، پھر ایک منادی نے پکار کر کہا کہ : اے قافلے والو ! تم چور ہو، (46)۔
Tafseer · Aasan Quran
46: یہاں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود اپنی طرف سے پیالہ ان کے سامان میں رکھنے کے بعد اتنے و ثوق کے ساتھ ان کو چور قرار دینا کیسے جائز ہوسکتا ہے اس کے جواب میں بعض حضرات نے تو یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے پیالہ خفیہ طور پر رکھوایا تھا اور عملے کے لوگوں کو پیالہ نہ ملا تو انہوں نے اپنی طرف سے ان لوگوں کو چور قرار دیا۔ حضرت یوسف ؑ کے حکم سے نہٰں۔ لیکن جس سیاق میں قرآن کریم نے یہ واقعہ بیان فرمایا ہے۔ اس میں یہ احتمال بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ان کو چور قرار دینا ایک توریہ تھا اور ان کو چور اس معنی میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے حضرت یوسف ؑ کو بچپن میں اپنے والد سے چرا لیا تھا۔ تیسرے بعض مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ یہ تدبیر چونکہ خود اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علی ہالسلام کو سکھائی تھی جس یا کہ آگے آیت 76 میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ اس طرح ہم نے یوسف کی خاطر یہ تدبیر کی اس لیے جو کچھ ہوا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا۔ اور جس طرح سورة کہف میں حضرت خضر ؑ نے کئی کام بظاہر شریعت کے خلاف کیے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے تکوینی حکم سے تھے۔ اس لیے ان کے لیے جائز تھے۔ اسی طرح یہاں حضرت یوسف ؑ نے جو عمل کیا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یا، اس لیے ان پر کوئی اشکال نہیں ہونا چاہیے۔