آسان قرآن
Aasan Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 41
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴿41﴾
- اَوَکیا
- لَمْ يَرَوْاوہ نہیں دیکھتے
- اَنَّا نَاْتِيکہ ہم چلے آتے ہیں
- الْاَرْضَزمین
- نَنْقُصُهَااس کو گھٹائے
- مِنْسے
- اَطْرَافِهَااس کے کنارے
- ۭوَاللّٰهُاور اللہ
- يَحْكُمُحکم فرماتا ہے
- لَا مُعَقِّبَکوئی پیچھے ڈالنے والا نہیں
- لِحُكْمِهٖاس کے حکم کو
- وَهُوَاور وہ
- سَرِيْعُجلد
- الْحِسَابِحساب لینے والا
Translation · Aasan Quran
کیا ان لوگوں کو یہ حقیقت نظر نہیں آئی کہ ہم ان کی زمین کو چاروں طرف سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں ؟ (40) ہر حکم اللہ دیتا ہے، کوئی نہیں ہے جو اس کے حکم کو توڑ سکے، اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
40: مطلب یہ ہے کہ جزیرہ عرب پر مشرکین اور ان کے عقائد کا جو تسلط تھا، وہ رفتہ رفتہ سمٹ رہا ہے، اور مشرکین کے اثر ورسوخ کا دائرہ کار روز بروز کم ہو کر سکڑ رہا ہے، اور اس کی جگہ اسلام کے اثرات پھیل رہے ہیں، یہ ایک تازیانہ ہے جس سے ان مشرکین کو سبق لینا چاہیے۔