آسان قرآن
Aasan Quran · 14. Ibrahim · Ayah 26
وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ﴿26﴾
- وَمَثَلُاور مثال
- كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍناپاک بات
- كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِمانند درخت ناپاک
- اجْتُثَّتْاکھاڑ دیا گیا
- مِنْسے
- فَوْقِاوپر
- الْاَرْضِزمین
- مَا لَهَانہیں اس کے لیے
- مِنْ قَرَارٍکچھ بھی قرار
Translation · Aasan Quran
اور ناپاک کلمے کی مثال ایک خراب درخت کی طرح ہے جسے زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جائے، اس میں ذرا بھی جماؤ نہ ہو۔ (20)
Tafseer · Aasan Quran
20: ناپاک کلمہ سے مراد کفر کا کلمہ ہے، اس کی مثال ایسا خراب درخت ہے جس کی کوئی مضبوط جڑ نہ ہو ؛ بلکہ وہ جھاڑ جھنکاڑ کی شکل میں خود اگ آئے، اس میں جماؤ بالکل نہیں ہوتا، اس لئے جو شخص چاہے اسے آسانی سے اکھاڑ ڈالتا ہے، اسی طرح کافرانہ عقیدوں کی کوئی عقلی یا نقلی بنیاد نہیں ہوتی، ان کی تردید آسانی سے کی جاسکتی ہے، اور غالباً اس سے مسلمانوں کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ کفر وشرک کے جن عقیدوں نے آج مسلمانوں پر زمین تنگ کی ہوئی ہے عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ان کو اس طرح اکھاڑ پھینکا جائے گا جیسے جھاڑ جھنکاڑ کو اکھاڑ پھینک دیا جاتا ہے۔