آسان قرآن
Aasan Quran · 14. Ibrahim · Ayah 27
یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ع﴿27﴾
- يُثَبِّتُمضبوط رکھتا ہے
- اللّٰهُاللہ
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاوہ لوگ جو ایمان لائے (مومن)
- بِالْقَوْلِبات سے
- الثَّابِتِمضبوط
- فِيمیں
- الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
- وَاور
- فِي الْاٰخِرَةِآخرت میں
- وَيُضِلُّاور بھٹکا دیتا ہے
- اللّٰهُاللہ
- الظّٰلِمِيْنَظالم (جمع)
- وَيَفْعَلُاور کرتا ہے
- اللّٰهُاللہ
- مَا يَشَآءُجو چاہتا ہے
Translation · Aasan Quran
جو لوگ ایمان لائے ہیں، اللہ ان کو اس مضبوط بات پر دنیا کی زندگی میں جماؤ عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی، (21) اور ظالم لوگوں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے، اور اللہ (اپنی حکمت کے مطابق) جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
21: دنیا میں جماؤ عطا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مومن پر کتنی زبردستی کی جائے وہ توحید کے اس کلمے کو چھوڑ نے کے لئے تیار نہیں ہوتا، اور آخرت میں جماؤ پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قبر میں جب اس سے سوال و جواب ہوگا تو وہ اپنے اس کلمے اور عقیدے کا اظہار کرے گا جس کے نتیجے میں اسے آخرت کی ابدی نعمتیں نصیب ہوں گی۔