Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 17. Al-Israa · Ayah 57

  1. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا﴿57﴾

    1. اُولٰٓئِكَوہ لوگ
    2. الَّذِيْنَجنہیں
    3. يَدْعُوْنَوہ پکارتے ہیں
    4. يَبْتَغُوْنَڈھونڈتے ہیں
    5. اِلٰىطرف
    6. رَبِّهِمُاپنا رب
    7. الْوَسِيْلَةَوسیلہ
    8. اَيُّهُمْان میں سے کون
    9. اَقْرَبُزیادہ قریب
    10. وَيَرْجُوْنَاور وہ امید رکھتے ہیں
    11. رَحْمَتَهٗاس کی رحمت
    12. وَيَخَافُوْنَاور ڈرتے ہیں
    13. عَذَابَهٗاس کا عذاب
    14. اِنَّبیشک
    15. عَذَابَعذاب
    16. رَبِّكَتیرا رب
    17. كَانَہے
    18. مَحْذُوْرًاڈر کی بات
Translation · Aasan Quran
جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ تو خود اپنے پروردگار تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کون اللہ کے زیادہ قریب ہوجائے، اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں، اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ (29) یقینا تمہارے رب کا عذاب ہے ہی ایسی چیز جس سے ڈرا جائے۔
Tafseer · Aasan Quran
29: اس سے مراد بت نہیں بلکہ وہ فرشتے اور جنات ہیں جن کو مشرکین عرب خدائی کا درجہ دیا کرتے تھے، مطلب یہ ہے کہ یہ خدا تو کیا ہوتے خود اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، اور اس کے تقرب کے راستے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔