آسان قرآن
Aasan Quran · 17. Al-Israa · Ayah 64
وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا﴿64﴾
- وَاسْتَفْزِزْاور پھسلا لے
- مَنِجو۔ جس
- اسْتَطَعْتَتیرا بس چلے
- مِنْهُمْان میں سے
- بِصَوْتِكَاپنی آواز سے
- وَاَجْلِبْاور چڑھا لا
- عَلَيْهِمْان پر
- بِخَيْلِكَاپنے سوار
- وَرَجِلِكَاور پیادے
- وَشَارِكْهُمْاور ان سے ساجھا کرلے
- فِيمیں
- الْاَمْوَالِمال (جمع)
- وَالْاَوْلَادِاور اولاد
- وَعِدْهُمْاور وعدے کر ان سے
- وَمَا يَعِدُهُمُاور نہیں ان سے وعدہ کرتا
- الشَّيْطٰنُشیطان
- اِلَّامگر (صرف)
- غُرُوْرًادھوکہ
Translation · Aasan Quran
اور ان میں سے جس جس پر تیرا بس چلے۔ انہیں اپنی آواز سے بہکا لے۔ (35) اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کی فوج چڑھا لا (36) اور ان کے مال اور اولاد میں اپنا حصہ لگالے، (37) اور ان سے خوب وعدے کرلے۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) شیطان ان سے جو وعدہ بھی کرتا ہے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
Tafseer · Aasan Quran
35: آواز سے بہکانے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے دلوں میں گناہ کے وسوسے پیدا کرے، اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد گانے بجانے کی آواز ہے جو انسان کو گناہ میں مبتلا کرتی ہے۔
36: شیطان کو دشمن کی فوج سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح ایک فوج میں سواروں کے بھی دستے ہوتے ہیں اور پیدل چلنے والے دستے بھی، اسی طرح شیطان اپنی ایک فوج رکھتا ہے جس میں شریر جنات اور انسان شامل ہیں، یہ سب مل کر انسانوں کو بہکانے میں شیطان کی مدد کرتے ہیں۔
37: اس میں اشارہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے مال اور اولاد کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف حاصل کرتا یا انہیں ناجائز کاموں میں استعمال کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے مال اور اولاد میں شیطان کا حصہ لگالیا ہے۔