آسان قرآن
Aasan Quran · 17. Al-Israa · Ayah 95
قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا﴿95﴾
- قُلْکہ دیں
- لَّوْ كَانَاگر ہوتے
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- مَلٰٓئِكَةٌفرشتے
- يَّمْشُوْنَچلتے پھرتے
- مُطْمَئِنِّيْنَاطمینان سے رہتے
- لَنَزَّلْنَاہم ضرور اتارتے
- عَلَيْهِمْان پر
- مِّنَ السَّمَآءِآسمان سے
- مَلَكًافرشتہ
- رَّسُوْلًااتارتے
Translation · Aasan Quran
کہہ دو کہ : اگر زمین میں فرشتے ہی اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو بیشک ہم آسمان سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر ان پر اتار دیتے۔ (51)
Tafseer · Aasan Quran
51: مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسی جنس سے ہو جس کی طرف وہ بھیجا جارہا ہے ؛ تاکہ وہ ان کی فطری ضروریات کو سمجھ کر اور ان کی نفسیات سے واقف ہو کر ان کی رہنمائی کرے، چونکہ آنحضرت ﷺ کو انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہے، اس لئے آپ کا انسان ہونا قابل اعتراض نہیں ؛ بلکہ حکمت کے عین مطابق ہے، ہاں اگر دنیا میں فرشتے آباد ہوتے تو بیشک ان کے پاس فرشتے کو رسول بناکر بھیجا جاتا۔