آسان قرآن
Aasan Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 30
اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ﴿30﴾
- اَوَکیا
- لَمْ يَرَنہیں دیکھا
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- كَفَرُوْٓاانہوں نے کفر کیا
- اَنَّکہ
- السَّمٰوٰتِآسمان (جمع)
- وَالْاَرْضَاور زمین
- كَانَتَادونوں تھے
- رَتْقًابند
- فَفَتَقْنٰهُمَاپس ہم نے دونوں کو کھول دیا
- وَجَعَلْنَااور ہم نے کیا
- مِنَ الْمَآءِپانی سے
- كُلَّ شَيْءٍہر شے
- حَيٍّزندہ
- اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَکیا پس وہ ایمان نہیں لاتے ہو
Translation · Aasan Quran
جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، کیا انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ سارے آسمان اور زمین بند تھے، پھر ہم نے انہیں کھول دیا۔ (13) اور پانی سے ہر جاندار چیز پیدا کی ہے ؟ (14) کیا پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے ؟
Tafseer · Aasan Quran
13: اکثر مفسرین کی تفسیر کے مطابق اس آیت میں آسمان کے بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے بارش نہیں ہوتی تھی، اور زمین کے بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے کوئی پیداوار نہیں ہوتی تھی، اور ان دونوں کو کھولنے کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے پانی برسنے لگا، اور زمین سے سبزیاں اگنے لگیں، یہ تفسیر متعدد صحابہ اور تابعین سے منقول ہے۔ لیکن دوسرے بعض مفسرین نے اس کی یہ تفسیر بھی کی ہے کہ آسمان اور زمین دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے اور یک جان تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو الگ الگ کیا۔
14: اس آیت نے واضح کردیا ہے کہ ہر جان دار چیز کی تخلیق میں پانی کا کوئی نہ کوئی دخل ضرور ہے