Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 30

  1. ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ﴿30﴾

    1. ذٰلِكَیہ
    2. وَمَنْاور جو
    3. يُّعَظِّمْتعطیم کرے
    4. حُرُمٰتِ اللّٰهِشعائر اللہ (اللہ کی نشانیاں)
    5. فَهُوَپس وہ
    6. خَيْرٌبہتر
    7. لَّهٗاس کے لیے
    8. عِنْدَ رَبِّهٖاس کے رب کے نزدیک
    9. وَاُحِلَّتْاور حلال قرار دئیے گئے
    10. لَكُمُتمہارے لیے
    11. الْاَنْعَامُمویشی
    12. اِلَّاسوا
    13. مَا يُتْلٰىجو پڑھ دئیے گئے
    14. عَلَيْكُمْتم پر۔ تم کو
    15. فَاجْتَنِبُواپس تم بچو
    16. الرِّجْسَگندگی
    17. مِنَسے
    18. الْاَوْثَانِبت (جمع)
    19. وَاجْتَنِبُوْااور بچو
    20. قَوْلَبات
    21. الزُّوْرِجھوٹی
Translation · Aasan Quran
یہ ساری باتیں یاد رکھو، اور جو شخص ان چیزوں کی تعظیم کرے گا جن کو اللہ نے حرمت دی ہے تو اس کے حق میں یہ عمل اس کے پروردگار کے نزدیک بہت بہتر ہے۔ سارے مویشی تمہارے لیے حلال کردیے گئے ہیں، سوائے ان جانوروں کے جن کی تفصیل تمہیں پڑھ کر سنا دی گئی ہے۔ (17) لہذا بتوں کی گندگی اور جھوٹٰ بات سے اس طرح بچ کر رہو۔
Tafseer · Aasan Quran
17: جانوروں کی قربانی کا ذکر آیا تو مشرکین عرب کی اس جاہلانہ رسم کی بھی تردید کردی گئی جس کی رو سے انہوں نے بتوں کے نام پر بہت سے جانوروں کو حرام قرار دے رکھا تھا (تفصیل کے لیے دیکھئے سورة انعام : 137 تا 144) چنانچہ یہ بتادیا گیا کہ یہ سب چوپائے تمہارے لیے حلال ہیں، سوائے ان چیزوں کے جنہیں قرآن کریم نے سورة مائدہ :3 میں حرام قرار دیا ہے۔ پھر اسی کے ساتھ جس بنیاد پر مشرکین ان جانوروں کو حرام قرار دیتے تھے، یعنی بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ماننا اور ان کے نام پر جانوروں کو چھوڑ دینا، اس بنیاد کو بھی یہ فرما کر ختم کردیا گیا ہے کہ بتوں کی گندگی سے اور جھوٹی باتوں سے بچو۔