Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 31

  1. حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ﴿31﴾

    1. حُنَفَآءَ لِلّٰهِاللہ کے لیے یک رخ ہوکر
    2. غَيْرَنہ
    3. مُشْرِكِيْنَشریک کرنے والے
    4. بِهٖاس کے ساتھ
    5. وَمَنْاور جو
    6. يُّشْرِكْشریک کرے گا
    7. بِاللّٰهِاللہ کا
    8. فَكَاَنَّمَاتو گویا
    9. خَرَّوہ گرا
    10. مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
    11. فَتَخْطَفُهُپس اسے اچک لے جاتے ہیں
    12. الطَّيْرُپرندے
    13. اَوْیا
    14. تَهْوِيْپھینک دیتی ہے
    15. بِهِاس کو
    16. الرِّيْحُہوا
    17. فِيْمیں
    18. مَكَانٍکسی جگہ
    19. سَحِيْقٍدور دراز
Translation · Aasan Quran
کہ تم یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رخ کیے ہوئے ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانتے ہو۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے تو گویا وہ آسمان سے گرپڑا۔ پھر یا تو پرندے اسے اچک لے جائیں، یا ہوا اسے کہیں دور دراز کی جگہ لا پھینکے۔ (18)
Tafseer · Aasan Quran
18: اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کی مثال آسمان کی سی ہے۔ جو شخص شرک کا ارتکاب کرتا ہے، وہ ایمان کے بلند مقام سے نیچے گرپڑتا ہے۔ پھر پرندوں کے اچک لے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی خواہشات اسے راہ راست سے بھٹکا کر ادھر ادھر لیے پھرتی ہیں، اور ہوا کے دور دراز پھینک دینے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شیطان اسے مزید گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ایسا شخص ایمان کے بلند مقام سے نیچے گر کر اپنی نفسانی خواہشات اور شیاطین کا غلام بن بیٹھتا ہے جو اسے گمراہی کی انتہا تک پہنچا دیتے ہیں۔