آسان قرآن
Aasan Quran · 30. Ar-Room · Ayah 46
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿46﴾
- وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓاور اس کی نشانیوں سے
- اَنْ يُّرْسِلَکہ وہ بھیجتا ہے
- الرِّيَاحَہوائیں
- مُبَشِّرٰتٍخوشخبری دینے والی
- وَّلِيُذِيْقَكُمْاور تاکہ وہ تمہیں چکھائے
- مِّنْ رَّحْمَتِهٖسے (کا) اپنی رحمت
- وَلِتَجْرِيَاور تاکہ چلیں
- الْفُلْكُکشتیاں
- بِاَمْرِهٖاس کے حکم سے
- وَلِتَبْتَغُوْااور تاکہ تم تلاش کرو
- مِنْسے
- فَضْلِهٖاس کا فضل
- وَلَعَلَّكُمْاور تاکہ تم
- تَشْكُرُوْنَتم شکر کرو
Translation · Aasan Quran
اور اس (اللہ کی قدرت) کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو (بارش کی) خوشخبری لے کر آتی ہیں، اور اس لیے بھیجتا ہے تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا کچھ مزہ چکھائے اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے پانی میں چلیں، اور تم اس کا فضل تلاش کرو، (21) اور شکر ادا کرو۔
Tafseer · Aasan Quran
21: ہوائیں چلانے کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ وہ بارش کی خوشخبری لاتی ہیں، اور بادلوں کو اٹھا کر پانی برسانے کا سبب بنتی ہیں، اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ سمندروں اور دریاؤں میں کشتیوں کو چلاتی ہیں، بادبانی کشتیوں کا تو سارا دارومدار ہی ہواؤں پر ہوتا ہے، لیکن مشینی جہاز بھی ہوا کی مدد سے بےنیاز نہیں ہوتے، اور سمندروں میں کشتیاں چلانے کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعے لوگ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں، جیسا کہ بار بار عرض کیا گیا، اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے، جس سے مراد تجارت اور روزگار کے دوسرے ذرائع اختیار کرنا ہے، لہذا قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے کہ اگر یہ ہوائیں نہ ہوں جن سے کشتیاں اور جہاز سمندروں میں چلنے کے لائق ہوتے ہیں، تو تمہاری ساری تجارت ٹھپ ہو کر رہ جائے، کیونکہ ساری بین الاقوامی تجارت کا دارومدار پانی کے جہازوں پر ہی ہوتا ہے۔