آسان قرآن
Aasan Quran · 33. Al-Ahzaab · Ayah 26
وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ﴿26﴾
- وَاَنْزَلَاور اتار دیا
- الَّذِيْنَان لوگوں کو
- ظَاهَرُوْهُمْجنہوں نے ان کی مدد کی
- مِّنْسے
- اَهْلِ الْكِتٰبِاہل کتاب
- مِنْسے
- صَيَاصِيْهِمْان کے قلعے
- وَقَذَفَاور ڈال دیا
- فِيْمیں
- قُلُوْبِهِمُان کے دل
- الرُّعْبَرعب
- فَرِيْقًاایک گروہ
- تَقْتُلُوْنَتم قتل کرتے ہو
- وَتَاْسِرُوْنَاور تم قید کرتے ہو
- فَرِيْقًاایک گروہ
Translation · Aasan Quran
اور جن اہل کتاب نے ان (دشمنوں) کی مدد کی تھی، انہیں اللہ ان کے قلعوں سے نیچے اتار لایا (21) اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ (اے مسلمانوں ! ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے تھے، اور کچھ کو قیدی بنا رہے تھے۔
Tafseer · Aasan Quran
21: اس سے مراد بنو قریظہ ہیں۔ یہ یہودیوں کا قبیلہ تھا، اور اس نے آنحضرت ﷺ سے معاہدہ کیا ہوا تھا۔ لیکن جنگ احزاب کے موقع پر عہد شکنی کر کے حملہ آوروں سے ساز باز کی، اور مسلمانوں کی پشت سے خنجر گھونپنے کا منصوبہ بنایا۔ اس لیے جنگ احزاب سے فارغ ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ان پر حملہ کیا، یہ لوگ اپنے قلعے میں محصور ہوگئے، ایک مہینے تک محاصرہ جاری رہا۔ اور آخر کار یہ اپنے قلعے سے اتر آئے، اور اس بات پر راضی ہوگئے کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ ان کے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں گے وہ انہیں منظور ہوگا۔ حضرت سعد بن معاذ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے لڑنے والے مردوں کو قتل کیا جائے، اور عورتوں اور نابالغ بچوں کو قیدی بنایا جائے۔ چنانچہ اسی فیصلہ پر عمل ہوا۔