آسان قرآن
Aasan Quran · 34. Saba · Ayah 23
وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ﴿23﴾
- وَلَا تَنْفَعُاور نفع نہیں دیتی
- الشَّفَاعَةُشفاعت
- عِنْدَهٗٓاس کے پاس
- اِلَّاسوائے
- لِمَنْ اَذِنَجسے وہ اجازتے دے
- لَهٗ ۭاس کو
- حَتّىٰٓیہاں تک
- اِذَاجب
- فُزِّعَدور کردی جاتی ہے
- عَنْ قُلُوْبِهِمْان کے دلوں سے
- قَالُوْاکہتے ہیں
- مَاذَا ۙکیا
- قَالَکہا
- رَبُّكُمْ ۭتمہارے رب نے
- قَالُواوہ کہتے ہیں
- الْحَقَّ ۚحق
- وَهُوَاور وہ
- الْعَلِيُّبلند مرتبہ
- الْكَبِيْرُبزرگ قدر
Translation · Aasan Quran
اور اللہ کے سامنے کوئی سفارش کارآمد نہیں ہے، سوائے اس شخص کے جس کے لیے خود اس نے (سفارش کی) اجازت دے دی ہو، یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ : تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ : حق بات ارشاد فرمائی اور وہی ہے جو بڑا عالیشان ہے۔ (16)
Tafseer · Aasan Quran
16: آیت نمبر : 22۔ 23 میں مشرکین کے مختلف عقیدوں کی تردید کی گئی ہے، ان میں سے بعض مشرکین تو وہ تھے کہ وہ اپنے تراشے ہوئے بتوں ہی کو اپنا خدا مانتے تھے، اور انہی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ براہ راست ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں، ان کی تردید کے لئے آیت 22 میں فرمایا گیا ہے کہ : وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور بعض مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کی تردید کے لئے اسی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ : اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور بعض مشرکین ان کو خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک یا مددگار نہیں مانتے تھے ؛ لیکن یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری سفارش کریں گے، ان کی تردید کے لئے آیت 23 میں فرمایا گیا ہے کہ : اور اللہ کے سامنے کوئی سفارش کارآمد نہیں ہے، سوائے اس شخص کے جس کے لئے خود اس نے (سفارش کی) اجازت دے دی ہو، جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ان بتوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے یہاں تقرب اور مقبولیت حاصل ہے، جس کی وجہ سے ان کو سفارش کرنے کی صلاحیت ہے، کیونکہ جن کو واقعی اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہے یعنی فرشتے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتے، پھر آگے یہ فرمایا گیا ہے کہ ان فرشتوں کا حال تو یہ ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے رعب سے سہمے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم ملتا ہے یا سفارش کی اجازت ملتی ہے تو وہ رعب کے مارے گھبراہٹ میں مدہوش جیسے ہوجاتے ہیں، پھر جب ان کی گھبراہٹ دور ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ؟ اس کے بعد اس پر عمل کرتے ہیں، جب ان مقرب فرشتوں کا یہ حال ہے تو یہ تراشے ہوئے بت جنہیں کسی قسم کا تقرب حاصل نہیں وہ کیسے اللہ تعالیٰ سے کسی کی سفارش کرسکتے ہیں ؟