Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 21

  1. وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿21﴾

    1. وَاذْكُرْاور یاد کر
    2. اَخَا عَادٍ ۭعاد کے بھائی
    3. اِذْ اَنْذَرَجب اس نے ڈرایا
    4. قَوْمَهٗاپنی قوم
    5. بِالْاَحْقَافِاحقاف میں
    6. وَقَدْ خَلَتِاور گزرچکے
    7. النُّذُرُڈرانے والے
    8. مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِاس سے پہلے
    9. وَمِنْ خَلْفِهٖٓاور اس کے بعد
    10. اَلَّا تَعْبُدُوْٓاکہ تم عبادت نہ کرو
    11. اِلَّا اللّٰهَ ۭاللہ کے سوا
    12. اِنِّىْٓ اَخَافُبیشک میں ڈرتا ہوں
    13. عَلَيْكُمْتم پر
    14. عَذَابَعذاب
    15. يَوْمٍایک دن
    16. عَظِيْمٍبڑا
Translation · Aasan Quran
اور قوم عاد کے بھائی (حضرت ہود ؑ) کا تذکرہ کرو، جب انہوں نے اپنی قوم کو خم دار ٹیلوں کی سرزمین میں (13) خبردار کیا تھا۔ اور ایسے خبردار کرنے والے ان سے پہلے گزر چکے ہیں، اور ان کے بعد بھی، کہ : اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، مجھے تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
13: قرآن کریم میں اصل لفظ احقاف ہے۔ یہ حقف کی جمع ہے جو لمبے مگر خم دار ریت کے ٹیلے کو کہتے ہیں جس جگہ قوم عاد آباد تھی، وہاں اسی قسم کے ٹیلے کثرت سے پائے جاتے تھے۔ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس سرزمین کا نام ہی احقاف تھا اور یہ یمن کے علاقے میں واقع تھی، آج یہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔ قوم عاد کی طرف حضرت ہود ؑ کو بھیجا گیا تھا، اور ان کا تعارف پیچھے سورة اعراف : 65 کے حاشیے میں گذر چکا ہے۔