آسان قرآن
Aasan Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 6
وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ﴿6﴾
- وَاِذَااور جب
- حُشِرَجمع کئے جائیں گے
- النَّاسُلوگ
- كَانُوْاوہ ہوں گے
- لَهُمْان کے
- اَعْدَآءًدشمن
- وَّكَانُوْااور ہوں گے
- بِعِبَادَتِهِمْان کی عبادت سے
- كٰفِرِيْنَمنکر (جمع)
Translation · Aasan Quran
اور جب لوگوں کو محشر میں جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت ہی سے منکر ہوں گے۔ (2)
Tafseer · Aasan Quran
2: یعنی جن جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے، آخرت میں وہ سب ان مشرکین سے براءۃ ظاہر کرکے یہ کہہ دیں گے کہ یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، یہ بات سورة قصص (63: 28) میں بھی گزری ہے، اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مشرکین کئی قسم کے ہوتے ہیں، بعض مشرکین نے کچھ دنیا سے گزرے ہوئے انسانوں کو معبود بنا رکھا ہے، ان انسانوں کو بسا اوقات یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کی عبادت کی جارہی ہے، اس لئے وہ انکار کردیں گے، اور جن کو پتہ ہے وہ یہ کہیں گے کہ درحقیقت یہ ہماری نہیں، بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کی عبادت کرتے تھے، دوسرے بعض مشرکین وہ ہیں جو فرشتوں کو معبود بنائے ہوئے تھے، ان کے بارے میں سورة سبا (41، 40: 34) میں گزرا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان سے پوچھیں گے کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے تو وہ کہیں گے کہ یہ تو جنات اور شیاطین کی عبادت کیا کرتے تھے، کیونکہ انہوں نے ہی انہیں بہکایا تھا، مشرکین کی تیسری قسم وہ ہے جو پتھر کے بتوں کو پوجتی ہے، بعض روایات میں یہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو دکھانے کے لئے ان بتوں کو بھی زبان دے دیں گے اور چونکہ وہ دنیا میں بےجان پتھر تھے اس لئے انہیں واقعی یہ پتہ نہیں ہوگا کہ مشرکین ان کی عبادت کرتے تھے، اس لئے وہ بھی یہی کہیں گے کہ یہ لوگ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، اور اگر یہ روایت ثابت نہ ہو تو پھر یہ بت زبان حال سے یہ کہیں گے کہ ہم تو بےجان پتھر ہیں ہمیں کیا پتہ کہ ہماری عبادت کی جاتی تھی۔