Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 101

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ﴿101﴾

    1. يٰٓاَيُّھَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاایمان والے
    3. لَا تَسْئَلُوْانہ پوچھو
    4. عَنْسے۔ متعلق
    5. اَشْيَآءَچیزیں
    6. اِنْ تُبْدَجو ظاہر کی جائیں
    7. لَكُمْتمہارے لیے
    8. تَسُؤْكُمْتمہیں بری لگیں
    9. وَاِنْاور اگر
    10. تَسْئَلُوْاتم پوچھوگے
    11. عَنْهَاان کے متعلق
    12. حِيْنَجب
    13. يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُنازل کیا جارہا ہے قرآن
    14. تُبْدَ لَكُمْظاہر کردی جائینگی تمہارے لیے
    15. عَفَا اللّٰهُاللہ نے درگزر کی
    16. عَنْهَااس سے
    17. وَاللّٰهُاور اللہ
    18. غَفُوْرٌبخشنے والا
    19. حَلِيْمٌبردبار
Translation · Aasan Quran
اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں سوالات نہ کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں، اور اگر تم ان کے بارے میں ایسے وقت سوالات کرو گے جب قرآن نازل کیا جارہا ہو تو وہ تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔ (69) (البتہ) اللہ نے پچھلی باتیں معاف کردی ہیں۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا بردبار ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
69: مطلب یہ ہے کہ اول تو جن باتوں کی کوئی خاص ضرورت نہ ہو ان کی کھوج میں پڑنا فضول ہے، دوسرے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض اوقات کوئی حکم مجمل طریقے سے آتا ہے اگر اس حکم پر اسی اجمال کے ساتھ عمل کرلیا جائے تو کافی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کو اس میں مزید تفصیل کرنی ہوتی تو وہ خود قرآن کریم یا نبی کریم ﷺ کی سنت کے ذریعے کردیتا، اب اس میں بال کی کھال نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اگر نزول قرآن کے زمانے میں اس کا کوئی سخت جواب آجائے تو خود تمہارے لئے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں، چنانچہ اس آیت کے شان نزول میں ایک واقعہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حج کا حکم آیا اور آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو بتایا تو ایک صحابی نے آپ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا حج عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے یا ہر سال کرنا فرض ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے اس سوال پر ناگواری کا اظہار فرمایا، وجہ یہ تھی کہ حکم کے بارے میں اصل یہی ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود یہ صراحت نہ کی جائے کہ اس پر با ربار عمل کرنا ہوگا (جیسے نماز روزے اور زکوٰۃ میں یہ صراحت موجود ہے) اس وقت تک اس پر صرف ایک بار عمل کرنے سے حکم کی تعمیل ہوجاتی ہے اس لئے اس سوال کی کوئی ضرورت نہیں تھی، آپ ﷺ نے صحابی سے فرمایا کہ اگر میں تمہارے جواب میں یہ کہہ دیتا کہ ہاں ہر سال فرض ہے تو واقعی پوری امت پر وہ ہر سال فرض ہوجاتا۔