آسان قرآن
Aasan Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 15
یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ﴿15﴾
- يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِاے اہل کتاب
- قَدْ جَآءَكُمْیقیناً تمہارے پاس آگئے
- رَسُوْلُنَاہمارے رسول
- يُبَيِّنُوہ ظاہر کرتے ہیں
- لَكُمْتمہارے لیے
- كَثِيْرًا مِّمَّابہت سی باتیں جو
- كُنْتُمْتم تھے
- تُخْفُوْنَچھپاتے
- مِنَ الْكِتٰبِکتاب سے
- وَيَعْفُوْااور وہ درگزر کرتا ہے
- عَنْ كَثِيْرٍبہت امور سے
- قَدْ جَآءَكُمْتحقیق تمہارے پاس آگیا
- مِّنَ اللّٰهِاللہ سے
- نُوْرٌنور
- وَّاور
- كِتٰبٌکتاب
- مُّبِيْنٌروشن
Translation · Aasan Quran
اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارے (یہ) پیغبر آگئے ہیں جو کتاب (یعنی تورات اور انجیل) کی بہت سی ان باتوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو تم چھپایا کرتے ہو، اور بہت سی باتوں سے درگزر کر جاتے ہیں (17) تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی آئی ہے اور ایک ایسی کتاب جو حق کو واضح کردینے والی ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
17: مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری نے یوں تو اپنی آسمانی کتابوں کی بہت سی باتوں کو چھپا رکھا تھا ؛ لیکن آنحضرت ﷺ نے صرف ان باتوں کو ظاہر فرمایا جن کی وضاحت دینی اعتبار سے ضروری تھی، بہت سی باتیں ایسی بھی تھیں جو انہوں نے چھپائی ہوئی تھیں مگر ان کے پوشیدہ رہنے سے کوئی عملی یا اعتقادی نقصان نہیں تھا اور اگر ان کو ظاہر کیا جاتا تو یہود و نصاری کی رسوائی کے سوا کوئی خاص فائدہ نہیں تھا، آنحضرت ﷺ نے ایسی باتوں سے درگزر فرمایا ہے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔