Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 77

  1. قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ع﴿77﴾

    1. قُلْکہ دیں
    2. يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِاے اہل کتاب
    3. لَا تَغْلُوْاغلو (مبالغہ) نہ کرو
    4. فِيْمیں
    5. دِيْنِكُمْاپنا دین
    6. غَيْرَ الْحَقِّناحق
    7. وَاور
    8. لَا تَتَّبِعُوْٓانہ پیروی کرو
    9. اَهْوَآءَخواہشات
    10. قَوْمٍوہ لوگ
    11. قَدْ ضَلُّوْاگمراہ ہوچکے
    12. مِنْ قَبْلُاس سے قبل
    13. وَاَضَلُّوْااور انہوں نے گمراہ کیا
    14. كَثِيْرًابہت سے
    15. وَّضَلُّوْااور بھٹک گئے
    16. عَنْسے
    17. سَوَآءِسیدھا
    18. السَّبِيْلِراستہ
Translation · Aasan Quran
(اور ان سے یہ بھی کہو کہ) اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو (53) اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو جو پہلے خود بھی گمراہ ہوئے، بہت سے دوسروں کو بھی گمراہ کیا، اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔
Tafseer · Aasan Quran
53: ”غلو“ کا مطلب ہے کسی کام میں اس کی معقول حدود سے آگے بڑھ جانا۔ عیسائیوں کا غلو یہ تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی تعظیم میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ انہیں خدا قرار دے دیا، اور یہودیوں کا غلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے محبت کا جو اظہار کیا تھا اس کی بنا پر یہ سمجھ بیٹھے کہ دنیا کے دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر بس وہی اللہ کے چہیتے ہیں اور اس وجہ سے وہ جو چاہیں کریں، اللہ تعالیٰ ان سے ناراض نہیں ہوگا، نیز ان میں سے بعض نے حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا قرار دے لیا تھا۔