آسان قرآن
Aasan Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 97
جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿97﴾
- جَعَلَبنایا
- اللّٰهُاللہ
- الْكَعْبَةَکعبہ
- الْبَيْتَ الْحَرَامَاحترام ولا گھر
- قِيٰمًاقیام کا باعث
- لِّلنَّاسِلوگوں کے لیے
- وَالشَّهْرَ الْحَرَامَاور حرمت والے مہینے
- وَالْهَدْيَاور قربانی
- وَالْقَلَآئِدَاور پٹے پڑے ہوئے جانور
- ذٰلِكَیہ
- لِتَعْلَمُوْٓاتاکہ تم جان لو
- اَنَّکہ
- اللّٰهَاللہ
- يَعْلَمُاسے معلوم ہے
- مَاجو
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَمَااور جو
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- وَاَنَّاور یہ کہ
- اللّٰهَاللہ
- بِكُلِّہر
- شَيْءٍچیز
- عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Aasan Quran
اللہ نے کعبے کو جو بڑی حرمت والا گھر ہے لوگوں کے لیے قیام امن کا ذریعہ بنادیا ہے، نیز حرمت والے مہینے، نذرانے کے جانوروں اور ان کے گلے میں پڑے ہوئے پٹوں کو بھی (امن کا ذریعہ بنایا ہے) (67)۔ یہ سب اس لیے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے، اور اللہ ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
67: کعبے شریف اور حرمت والے مہینے کا باعث امن ہونا تو ظاہر ہے کہ اس میں جنگ کرنا حرام ہے، اس کے علاوہ جو جانور نذرانے کے طور پر حرم لے جائے جاتے تھے ان کے گلے میں پٹے ڈال دئے جاتے تھے تاکہ ہر دیکھنے والے کو پتا چل جائے کہ یہ جانور حرم جارہے ہیں ؛ چنانچہ کافر، مشرک، ڈاکو بھی ان کو چھیڑتے نہیں تھے، کعبے کے قیام امن کا باعث ہونے کے ایک معنی کچھ مفسرین نے یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ جب تک کعبہ شریف قائم رہے گا قیامت نہیں آئے گی، قیامت اس وقت آئے گی جب اسے اٹھالیا جائے گا۔