آسان قرآن
Aasan Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 32
وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿32﴾
- وَمَااور نہیں
- الْحَيٰوةُزندگی
- الدُّنْيَآدنیا
- اِلَّامگر (صرف)
- لَعِبٌکھیل
- وَّلَهْوٌاور جی کا بہلاوا
- وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَةُاور آخرت کا گھر
- خَيْرٌبہتر
- لِّلَّذِيْنَان کے لیے جو
- يَتَّقُوْنَپرہیزگاری کرتے ہیں
- اَفَلَا تَعْقِلُوْنَسو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے
Translation · Aasan Quran
اور دنیوی زندگی تو ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں (8) اور یقین جانو کہ جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں، ان کے لیے آخرت والا گھر کہیں زیادہ بہتر ہے۔ تو کیا اتنی سی بات تمہاری عقل میں نہیں آتی ؟
Tafseer · Aasan Quran
8: یہ بات کفروں کے اس بیان کے جواب میں کہی گئی ہے جو آیت نمبر 29 میں اوپر گذرا ہے کہ ”جو کچھ ہے بس یہی دنیوی زندگی ہے“ جواب میں فرمایا گیا ہے کہ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں چند روز کی دنیوی زندگی جسے تم سب کچھ سمجھ رہے ہو، کھیل تماشے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پرواہ کیے بغیر دنیا میں زندگی گذارتے ہیں تو جس عیش و آرام کو وہ اپنا مقصد زندگی بناتے ہیں، آخرت میں جا کر ان کو پتا لگ جائے گا کہ اس کی حیثیت کھیل تماشے کی سی تھی۔ ہاں ! جو لوگ دنیا کو آخرت کی کھیتی بنا کر زندگی گذارتے ہیں، ان کے لیے دنیوی زندگی بھی بڑی نعمت ہے۔