آسان قرآن
Aasan Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 53
وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ﴿53﴾
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- فَتَنَّاآزمایا ہم نے
- بَعْضَهُمْان کے بعض
- بِبَعْضٍبعض سے
- لِّيَقُوْلُوْٓاتاکہ وہ کہیں
- اَهٰٓؤُلَآءِکیا یہی ہیں
- مَنَّ اللّٰهُاللہ نے فضل کیا
- عَلَيْهِمْان پر
- مِّنْۢ بَيْنِنَاہمارے درمیان سے
- اَلَيْسَکیا نہیں
- اللّٰهُاللہ
- بِاَعْلَمَخوب جاننے والا
- بِالشّٰكِرِيْنَشکر گزار (جمع)
Translation · Aasan Quran
اسی طرح ہم نے کچھ لوگوں کو کچھ دوسروں کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے (20) تاکہ وہ (ان کے بارے میں) یہ کہیں کہ : کیا یہ ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے ہم سب کو چھوڑ کر احسان کرنے کے لیے چنا ہے ؟ (21) کیا (جو کافر یہ بات کہہ رہے ہیں ان کے خیال میں) اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو دوسروں سے زیادہ نہیں جانتا ؟
Tafseer · Aasan Quran
20: مطلب یہ ہے کہ غریب مسلمان اس حیثیت سے ان امیر کافروں کے لئے ایک آزمائش کا سبب بن گئے ہیں کہ آیا یہ لوگ اصل اہمیت حق بات کو دیتے ہیں یا صرف اس وجہ سے حق کا انکار کردیتے ہیں کہ اس کے ماننے والے غریب لوگ ہیں۔
21: ہ کافروں کا فقرہ ہے جو وہ غریب مسلمانوں کے بارے میں طنزیہ انداز میں کہتے تھے، یعنی (معاذاللہ) ساری دنیا میں سے یہی کم حیثیت لوگ اللہ تعالیٰ کو ملے تھے جن پر وہ احسان کرکے انہیں جنت کا مستحق قرار دے۔