Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 9. At-Tawba · Ayah 17

  1. مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ﴿17﴾

    1. مَا كَانَنہیں ہے
    2. لِلْمُشْرِكِيْنَمشرکوں کے لیے
    3. اَنْکہ
    4. يَّعْمُرُوْاوہ آباد کریں
    5. مَسٰجِدَ اللّٰهِاللہ کی مسجدیں
    6. شٰهِدِيْنَتسلیم کرتے ہوں
    7. عَلٰٓيپر
    8. اَنْفُسِهِمْاپنی جانیں (اپنے اوپر)
    9. بِالْكُفْرِکفر کو
    10. اُولٰٓئِكَوہی لوگ
    11. حَبِطَتْاکارت گئے
    12. اَعْمَالُهُمْان کے اعمال
    13. وَاور
    14. فِي النَّارِجہنم میں
    15. هُمْوہ
    16. خٰلِدُوْنَہمیشہ رہیں گے
Translation · Aasan Quran
مشرکین اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں، (15) حالانکہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ بنے ہوئے ہیں، ان لوگوں کے تو اعمال ہی غارت ہوچکے ہیں، اور دوزخ ہی میں ان کو ہمیشہ رہنا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
15: مشرکین مکہ اس بات پر فخر کیا کرتے تھے کہ وہ مسجد حرام کے پاسبان ہیں، اس کی خدمت، دیکھ بھال اور تعمیر جیسے نیک انجام دیتے ہیں اس لئے ان کو مسلمانوں پر فوقیت حاصل ہے، اس آیت نے ان کے اس زعم باطل کی تردید فرمائی ہے، اور وہ اس طرح کہ مسجد حرام یا کسی بھی مسجد کی خدمت یقیناً بڑی عبادت ہے، بشرطیکہ وہ ایمان کے ساتھ ہو، کیونکہ مسجد کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی ایسی عبادت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، اگر یہ بنیادی مقصد ہی مفقود ہو تو مسجد کی خدمت کا کیا فائدہ، لہذا کفر وشرک کے ساتھ کوئی بھی شخص مسجد کا پاسبان بننے کا اہل نہیں ہے، چنانچہ آگے آیت نمبر 28 میں مشرکین کو یہ حکم سنادیا گیا ہے کہ اب وہ ان کاموں کے لئے مسجد حرام کے قریب بھی نہیں آسکیں گے۔ (توضیح القرآن)