Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Muminoon : 105
اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ
اَلَمْ تَكُنْ : کیا نہ تھیں اٰيٰتِيْ : میری آیتیں تُتْلٰى : پڑھی جاتیں عَلَيْكُمْ : تم پر فَكُنْتُمْ : پس تم تھے بِهَا : انہیں تُكَذِّبُوْنَ : تم جھٹلاتے تھے
کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے
105۔ 107:۔ اوپر ذکر تھا کہ جلتے جلتے دوزخیوں کا تمام بدن سوج کر نیچے کا ہونٹ ناف تک لٹک پڑے گا اور اوپر کا ہونٹ سر کے اوپر چلا جاوے گا ‘ یہ تو ان لوگوں کی بدصورتی کا حال ہوا ‘ سینڈھ کا پھل جو ان لوگوں کو کھانے کو ملے گا جس کا ذکر سورة والصافات میں آوے گا ‘ اس پھل کی مذمت ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ وغیرہ کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت 4 ؎ میں یوں آئی ہے کہ اس پھل کے عرق کا ایک قطرہ زمین پر اگر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام دنیا کے لوگ گھبرا جاویں ‘ سورة محمد میں آوے گا کہ دوزخیوں کو سینڈھ کا پھل کھلایا جاوے گا ‘ جب وہ پھل ان کے حلق میں پھنسے گا تو ایسا کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جاوے گا جس سے ان کی انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ اس طرح کے عذاب کے وقت ان کو ذلیل کرنے کے لیے ان سے کہا جاوے گا کہ دوزخ کے عذاب کی قرآن کی آیتوں کو دنیا میں تم لوگوں کو سنائی جاتی تھیں اور تم اس عذاب کو جھٹلاتے تھے اب یہ وہی عذاب ہے جس میں تم لوگ گرفتار ہو ‘ اس کے جواب میں یہ لوگ کہیں گے کہ یا اللہ تیرے علم غیب کے موافق دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے جس طرح کہ ہم بدبخت ٹھہرے تھے ‘ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد وہی بدبختی ہمارے سر پر سوار رہی ‘ اس لیے ہماری ساری زندگی گمراہی میں گزری ‘ اب اگر اس آگ سے ہم کو نکالا جاکر دنیا میں دوبارہ بھیجا جاتا تو ضرور ہم نیک کام کریں گے اور اگر اس دفعہ بھی ہم اپنی زندگی گمراہی میں گزاریں تو ہم کو سخت مجرم قرار دیا جاوے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہونے والا تھا اپنے علم غیب کے نتیجے کے طور پر وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے اگر دنیا میں ان لوگوں کو دوبارہ بھیجا جاوے تو پھر یہ لوگ وہی کریں گے جو پہلی دفعہ کرچکے ‘ اوپر حدیث اور سورة الانعام کی آیتوں کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھا گیا ہے کہ یہ لوگ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد اپنی ساری عمر گمراہی میں گزاریں گے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں یہ بات بھی ٹھہری ہوئی تھی کہ اگر ان لوگوں کو دوبارہ دنیا میں بھیجا جاوے تو پھر یہ لوگ وہی کریں گے جو پہلی دفعہ کرچکے ‘ اس واسطے ان لوگوں کو یہ درخواست اللہ تعالیٰ کے نزدیک منظوری کے قابل قرار نہ پائی بلکہ اس درخواست پر وہ خفگی کا جواب ملا ‘ جس کا ذکر آگے کی آیت میں ہے۔ (4 ؎ ایضا۔ فصل فی طعام اہل النار ص 480 ج 4۔ )
Top