Al-Quran-al-Kareem - Al-Ahzaab : 63
فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
فَجَآءَتْهُ : پھر اس کے پاس آئی اِحْدٰىهُمَا : ان دونوں میں سے ایک تَمْشِيْ : چلتی ہوئی عَلَي اسْتِحْيَآءٍ : شرم سے قَالَتْ : وہ بولی اِنَّ : بیشک اَبِيْ : میرا والد يَدْعُوْكَ : تجھے بلاتا ہے لِيَجْزِيَكَ : تاکہ تجھے دے وہ اَجْرَ : صلہ مَا سَقَيْتَ : جو تونے پانی پلایا لَنَا : ہمارے لیے فَلَمَّا : پس جب جَآءَهٗ : اس کے پاس گیا وَقَصَّ : اور بیان کیا عَلَيْهِ : اس سے الْقَصَصَ : احوال قَالَ : اس نے کہا لَا تَخَفْ : ڈرو نہیں نَجَوْتَ : تم بچ آئے مِنَ : سے الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کی قوم
تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی، اس نے کہا بیشک میرا والد تجھے بلا رہا ہے، تاکہ تجھے اس کا بدلہ دے جو تو نے ہمارے لیے پانی پلایا ہے۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کے سامنے حال بیان کیا تو اس نے کہا خوف نہ کر، تو ان ظالم لوگوں سے بچ نکلا ہے۔
فَجَاۗءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ : ”عَلٰی حَیَاءٍ“ کا معنی ہے حیا کے ساتھ، ”عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ“ میں حروف زیادہ ہونے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی بہت حیا کے ساتھ۔ 3 شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”عورتوں نے پہچانا کہ چھاؤں پکڑتا ہے مسافر ہے، دور سے آیا ہوا تھکا، بھوکا، جا کر اپنے باپ سے کہا۔“ ابن کثیر لکھتے ہیں : ”جب وہ دونوں باپ کے پاس جلدی واپس پہنچ گئیں تو اسے تعجب ہوا اور اس نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انھوں نے موسیٰ ؑ کے احسان کا ذکر کیا، تو اس نے ان میں سے ایک کو انھیں بلانے کے لیے بھیجا۔“ ”تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی۔“ سبحان اللہ ! وہ خاتون کس قدر باحیا ہوگی جس کے بہت حیا کی شہادت رب العالمین نے دی ہے۔ ”تَمْشِيْ باسْتِحْیَاءٍ“ کے بجائے ”تَمْشِيْ عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ“ اس لیے فرمایا گویا وہ حیا کی سواری پر سوار ہو کر چلی آرہی تھی، حیا کی ہر صورت اس کی دسترس میں تھی۔ ابن ابی حاتم نے عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا : (فَجَاۗءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ) قَاءِلَۃٌ بِثَوْبِھَا عَلٰی وَجْھِھَا لَیْسَتْ بِسَلْفَعِ مِنَ النِّسَاءِ وَلَّاجَۃً ، خَرَّاجَۃً) [ طبري : 27585۔ ابن أبي حاتم : 16832] ”وہ نہایت حیا کے ساتھ اپنا کپڑا چہرے پر ڈالے ہوئے آئی، بےباک عورتوں کی طرح نہیں جو بےدھڑک اور بےخوف چلی آتی ہوں، ہر جگہ جا گھستی ہر طرف نکل جاتی ہوں۔“ ابن کثیر نے فرمایا : ”ھٰذَا إِسْنَادٌ صَحِیْحٌ“ اور تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا : ”وَ سَنَدُہُ صَحِیْحٌ۔“ ظاہر یہی ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے، مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ کے ہاں حیا کا مطلب کیا تھا۔ جو لوگ چہرے کے پردے کے قائل نہیں انھیں غور کرنا چاہیے کہ امیر المومنین چہرہ ڈھانکنے کو حیا قرار دے رہے ہیں۔ قَالَتْ اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْكَ : اس خاتون کے بلانے کے انداز سے بھی اس کی کمال دانائی اور حیا ظاہر ہو رہی ہے۔ اس نے اپنی طرف سے ساتھ چلنے کو نہیں کہا، بلکہ باپ کی طرف سے پیغام دیا، کیونکہ ایک باحیا خاتون کو زیب ہی نہیں دیتا کہ کسی اجنبی مرد کو ساتھ چلنے کے لیے کہے۔ لِيَجْزِيَكَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا : یہ بات بھی اس نے حیا ہی کی وجہ سے کہی، کیونکہ ایک غیر مرد کو ساتھ لے جانے کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے، اس کے بغیر شبہات پیدا ہوسکتے تھے، جن کا اس نے پہلے ہی سدباب کردیا۔ 3 یہاں مفسرین نے ایک سوال اٹھایا ہے کہ انبیاء تو احسان کا بدلا نہیں لیتے، پھر موسیٰ ؑ پانی پلانے کی اجرت لینے کے لیے کیوں چل پڑے ؟ جواب اس کا ایک تو یہ ہے کہ یہ معروف معنوں میں اجرت نہیں، بلکہ احسان کا بدلا ہے، احسان کے بدلے میں کوئی احسان کرے تو اسے قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، جیسا کہ فرمایا : (هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ) [ الرحمٰن : 60 ]”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے۔“ اور نبی ﷺ ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلا بھی دیتے تھے، حدیث کے الفاظ ہیں : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْبَلُ الْھَدِیَّۃَ وَ یُثِیْبُ عَلَیْھَا) [ بخاري، الھبۃ، باب المکافأۃ في الھبۃ : 2585 ] پھر موسیٰ ؑ اس وقت سخت اضطرار کی حالت میں تھے، انھوں نے اس دعوت کو اپنی دعا کی قبولیت کا نتیجہ سمجھا اور خواہ مخواہ کی خود داری سے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اس موقع کو ضائع نہیں کیا۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ اگر کسی کو اصرار ہو کر یہ اجرت ہی تھی تو محنت کے بدلے میں مزدوری لینا موسیٰ ؑ منع نہیں سمجھتے تھے، نہ ہی یہ منع ہے، خصوصاً جب کوئی بلا طلب مزدوری دے دے، جیسا کہ خضر ؑ کے واقعہ میں ہے کہ جب انھوں نے گرتی ہوئی دیوار سیدھی کردی تو موسیٰ ؑ نے ان سے کہا : (لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اَجْرً) [ الکہف : 77 ] ”اگر تو چاہتا تو ضرور اس پر کچھ اجرت لے لیتا۔“ فَلَمَّا جَاۗءَهٗ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ : جب موسیٰ ؑ اس بزرگ کے پاس آئے تو ظاہر ہے سب سے پہلی بات تعارف تھا، چناچہ موسیٰ ؑ نے اپنا نام و نسب، اپنی قوم پر فرعون کا ظلم و ستم، اپنی پیدائش اور پرورش کا قصہ اور ایک نادانستہ قتل پر فرعون کے ان کی جان کے درپے ہونے کا حال بیان کیا۔ قَالَ لَا تَخَفْ۔۔ : اس بزرگ نے کھانا وغیرہ پیش کرنے سے پہلے موسیٰ ؑ کا خوف دور کیا، کیونکہ خوف میں مبتلا شخص بھوک کے مارے کھانا کھائے بھی تو اس میں اسے لذت نہیں ملتی، اس لیے سب سے پہلے اس نے کہا ڈرو مت، اس جگہ فرعون کی حکومت نہیں، تم ان ظالموں سے نجات پاچکے ہو۔ اس کے بعد نہایت عزت و احترام سے ان کی مہمان نوازی کی۔
Top